پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی لوک سبھا میں بڑا سیاسی ٹکراؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ پیر (7 مارچ) کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو عہدہ سے ہٹانے کی تحریک ایوان میں پیش کی جائے گی۔ اس تحریک کے پیش نظر حکمراں جماعت اور اپوزیشن دونوں نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کو ایوان میں موجود رہنے کے لیے وِہپ جاری کیا ہے۔
واضح رہے کہ لوک سبھا کی کارروائی کی فہرست میں پیر کے روز اسپیکر کو ہٹانے سے متعلق اپوزیشن کی تحریک کو درج کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس بجٹ سیشن کے پہلے مرحلے کے دوران اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے دیا گیا تھا۔ اس تحریک پر بحث کے دوران اوم برلا ایوان کی کارروائی کی صدارت نہیں کریں گے بلکہ اراکین پارلیمنٹ کے درمیان بیٹھیں گے۔ آئین کے التزامات کے مطابق جب لوک سبھا اسپیکر کے خلاف عہدہ سے برطرفی کی تحریک ایوان میں پیش کی جاتی ہے تب وہ ایوان کی صدارت نہیں کر سکتے۔ اس دوران وہ حکمراں جماعت کی اگلی صف میں بیٹھ سکتے ہیں اور انہیں تحریک کے خلاف اپنے دفاع کا بھی حق حاصل ہوتا ہے۔
اپوزیشن نے اپنے نوٹس میں الزام عائد کیا ہے کہ صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن لیڈران کو بولنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے کارروائی کے دوران کھلے عام امتیازی سلوک کا مظاہرہ کیا۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 118 اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اوم برلا کو عہدہ سے ہٹانے کے لیے تحریک کا نوٹس دیا تھا۔ یہ نوٹس کانگریس رکن پارلیمنٹ اور پارٹی چیف وہپ کے سریش نے کانگریس، سماجوادی پارٹی اور ڈی ایم کے سمیت کئی اپوزیشن لیڈران کی جانب سے لوک سبھا سکریٹریٹ کو سونپا۔ حالانکہ ٹی ایم سی کے اراکین پارلیمنٹ نے اس نوٹس پر دستخط نہیں کیے۔
آئینی ماہر پی ڈی ٹی آچاریہ کے مطابق اسپیکر کو تحریک پر اپنی بات رکھنے اور ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ حالانکہ وہ ووٹنگ کے خودکار نظام کا استعمال نہیں کر پائیں گے اور انہیں اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے الگ سے پرچی داخل کرنی ہوگی۔ ہندوستانی آئین کے مطابق لوک سبھا اسپیکر کو ایوان میں سادہ اکثریت سے منظور شدہ تحریک کے ذریعہ عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے آئین کی دفعہ 94 اور 96 میں التزامات موجود ہیں۔ اکثریت کا حساب ایوان کی مؤثر رکن تعداد کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے، نہ کہ صرف موجود اور ووٹ دینے والے اراکین کی بنیاد پر۔
قواعد کے مطابق اسپیکر کو ہٹانے کی تحریک لانے کے لیے کم از کم 2 اراکین پارلیمنٹ کے دستخط ضروری ہوتے ہیں، حالانکہ زیادہ اراکین بھی اس پر دستخط کر سکتے ہیں۔ نوٹس لوک سبھا کے جنرل سکریٹری کو دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کی ابتدائی جانچ ہوتی ہے کہ اس میں واضح اور مخصوص الزامات موجود ہیں یا نہیں۔ جانچ مکمل ہونے کے بعد تحریک کو 14 روز بعد ایوان میں لایا جا سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا کی تاریخ میں اسپیکر کے خلاف ایسی تحریک پہلے بھی لائی گئی ہیں، لیکن اب تک کوئی تحریک پاس نہیں ہوئی۔ ماضی میں جی وی ماولنکر، حکم سنگھ اور بلرام جاکھڑ کو بی عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالانکہ یہ تمام تحریکیں مسترد کر دی گئی تھیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































