
قابل ذکر ہے کہ جب کوئی سامان امریکہ میں آتا ہے تو یوایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن اس کا آخری حساب کرتا ہے، جسے لیکویڈیشن کہتے ہیں۔ لیکویڈیشن کے بعد درآمد کنندگان کو 180 دن کا وقت ملتا ہے جس کے اندر وہ ٹیرف پر اعتراضات درج کراسکتے ہیں۔ اس کے بعد یہ حساب قانونی طور سے حتمی مانا جائے گا۔ جج نے حکم دیا کہ کسٹمز ان ٹیرف کو اکٹھا کرنا بند کرے جو سپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دیئے ہیں اور اگر کوئی سامان پہلے ہی لیکویڈیشن کے عمل سے گزر چکا ہے تو اس کا حساب بغیر ٹیرف پھر سے کیا جائے گا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد نیویارک لا اسکول کے پروفیسر بیری ایپلٹن نے کہا کہ یہ درآمد کنندگان اور صارفین کے لیے بہت اچھا فیصلہ ہے۔ اس سے کسٹم بروکرز کی بھی مصروفیت بڑھے گی اورعدالت کے لیے عمل آسان ہوگا۔






