کانگریس اور ڈی ایم کے سمیت 21 پارٹیوں نے اتحاد کا کیا اعلان، کانگریس کو ملی 28 سیٹیں

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 4, 2026359 Views


ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان ہوئے معاہدہ میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ کانگریس تمل ناڈو میں 28 اسمبلی سیٹوں پر انتخاب لڑے گی۔ علاوہ ازیں آئندہ راجیہ سبھا انتخاب میں بھی کانگریس کو ایک سیٹ دی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایم کے اسٹالن اور راہل گاندھی، تصویر <a href="https://x.com/mkstalin">@mkstalin</a></p></div><div class="paragraphs"><p>ایم کے اسٹالن اور راہل گاندھی، تصویر <a href="https://x.com/mkstalin">@mkstalin</a></p></div>

i

user

تمل ناڈو میں 234 رکنی اسمبلی کا انتخاب رواں سال ہونے والا ہے۔ اس کے لیے جاری سرگرمیوں کے درمیان ڈی ایم کے اور کانگریس نے ایک بار پھر آپس میں اتحاد قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی قیادت میں ڈی ایم کے نے ایک بڑے اتحاد کی تیاری کی ہے، جس میں مجموعی طور پر 21 پارٹیاں شامل ہوئی ہیں۔ کانگریس کو اس اتحاد میں 28 اسمبلی سیٹوں پر امیدوار اتارنے کا موقع دیا گیا ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن اور تمل ناڈو کانگریس کمیٹی کے صدر سیلواپیرونتھاگائی کے درمیان آج انتہائی اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں انتخابی حلقوں کی تقسیم پر آخری مہر لگا دی گئی۔ ڈی ایم کے اور کانگریس کے درمیان ہوئے معاہدہ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کانگریس تمل ناڈو میں 28 اسمبلی سیٹوں پر امیدوار اتارے گی۔ ساتھ ہی آئندہ راجیہ سبھا انتخاب میں بھی کانگریس پارٹی کے لیے ایک سیٹ محفوظ رکھی گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ڈی ایم کے نے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر تروچی شیوا پر ایک بار پھر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے انھیں راجیہ سبھا رکن کی شکل میں برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ کانسٹنٹائن رویندرن کو پہلی بار راجیہ سبھا بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اتحاد میں ڈی ایم کے کو 2، کانگریس کو ایک اور ڈی ایم ڈی کے کو 1 راجیہ سبھا سیٹ ملی ہے۔

ڈی ایم کے نے ایک پریس ریلیز جاری کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’تمل ناڈو کی سیاست کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ ایک ہی اتحاد بغیر ٹوٹے اور نئی پارٹیوں کو شامل کرتے ہوئے چوتھی بار انتخابات کا سامنا کر رہا ہے۔ تمل ناڈو کی سیاست کی اب تک کی تاریخ رہی ہے کہ اسمبلی انتخاب کے لیے تیار اتحاد اگلے انتخاب تک کبھی قائم نہیں رہ پایا۔‘‘ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ اسٹالن نے اپنی مضبوط شخصیت اور خیر سگالی والے رویہ سے یہ نئی تاریخ رقم کی ہے۔

ڈی ایم کے نے اپوزیشن لیڈران پر تلخ حملہ بھی کیا۔ پارٹی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈران گزشتہ 2 سالوں سے اتحاد ٹوٹنے کی پیشین گوئی کر رہے تھے، لیکن ان کی خواہشات پوری نہیں ہو پائیں۔ ڈی ایم کے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کل کے دہلی انٹرویو تک ایڈپادی پلانی سوامی اتحاد ٹوٹنے کی امید لگائے بیٹھے تھے، لیکن آخر میں وہ تنہا رہ گئے۔‘‘ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ برسراقتدار پارٹی کی حمایت میں لہر کو دیکھتے ہوئے کئی نئی پارٹیاں بھی اس محاذ میں شامل ہو رہی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...