قومی آواز کے خصوصی پروگرام ’میری بات‘ میں ڈیجیٹل ایڈیٹر سید خرم رضا نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید دور میں آزادی کے بدلتے ہوئے تصور پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اکیسویں صدی میں کسی قوم کی حقیقی طاقت صرف سیاسی آزادی سے نہیں بلکہ معلومات، تحقیق، معیشت اور ٹیکنالوجی پر اس کے اختیار سے بھی وابستہ ہے۔
سید خرم رضا نے کہا کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے برقی ڈاک، سماجی رابطوں اور پیغام رسانی کے پلیٹ فارم اربوں افراد کی معلومات اپنے نظام میں محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق صارفین ان پلیٹ فارموں پر اپنی سرگرمیوں اور مقبولیت پر توجہ دیتے ہیں، لیکن ان کے بنیادی نظام اور نگرانی پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔
انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے دفاعی استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی سیاروں کے ذریعے زمین کے مختلف حصوں کی نگرانی کی جا رہی ہے اور انہی معلومات کی بنیاد پر جدید دفاعی نظام کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی مستقبل میں اطلاعات اور جنگ دونوں کی نوعیت کو مزید تبدیل کر سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ قومی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے علم، تحقیق اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت ناگزیر ہے۔





