امریکہ اور اسرائیل کے ذریعہ ایران پر لگاتار کیے جا رہے حملوں نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایران بھی اپنے قدم پیچھے کھینچنے کو راضی نہیں ہے اور مختلف ممالک میں موجود امریکی ٹھکانوں پر میزائلیں داغی جا رہی ہیں۔ کئی میزائلوں نے تباہی بھی مچائی ہے اور مختلف میڈیا رپورٹس میں ہلاکتوں و نقصانات کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اس درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں ایران کو ایک بار پھر متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد از جلد خودسپردگی کر دے، ورنہ امریکی فوج ایران کی زمین پر بھی اتارے جائیں گے۔ ٹرمپ کے بیانات نے عالمی سطح پر تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آئیے ذیل میں ٹرمپ کے تازہ بیانات کے 10 اہم حصوں پر نظر ڈالیں…
-
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم نے ایران پر ایسا حملہ کیا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ہزاروں لوگوں کا خون بہانے والا خامنہ ای اب مر چکا ہے۔ اس موت پر ایران کے لوگوں نے جشن منایا۔ جب تک ہم اپنا ہدف حاصل نہیں کر لیتے، حملہ کرتے رہیں گے۔‘‘
-
’نیویارک پوسٹ‘ سے گفتگو میں ٹرمپ نے سخت انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ضرورت پڑی تو ایران میں زمینی فوج بھیجنے میں مجھے کوئی جھجک نہیں ہوگی۔ ایران میں بڑے حملوں کی ایک لہر جلد آنے والی ہے۔‘‘
-
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’’آپریشن ایپک فیوری تہران کے درجنوں اعلیٰ افسران کو مار گرا کر مقررہ وقت سے بہت آگے چل رہا ہے۔ ہر صدر کہتا ہے کہ زمین پر فوج نہیں بھیجیں گے، لیکن میں ایسا نہیں کہتا ہوں۔
-
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’اسرائیل کی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ امریکہ ایک بار پھر دنیا کا سب سے امیر اور طاقتور ملک بن گیا ہے۔ یہ سب ہمارے اُن جنگجوؤں کی وجہ سے ہوا ہے جو جنگ میں اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔‘‘
-
ٹرمپ نے کہا کہ ’’ایران کے پاس طویل فاصلہ تک مار کرنے والی میزائلیں ہیں۔ اگر اس کے پاس ایٹمی اسلحہ ہوگا تو یہ امریکیوں کے لیے سنگین خطرہ ہوگا۔ ہم ایسے ملک کو ایٹمی اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے جو دہشت گرد تیار کرتا ہو۔ ایسا اسلحہ رکھنے سے انہیں دنیا سے زبردستی وصولی کرنے کی طاقت مل جائے گی۔‘‘
-
ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’امریکہ ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن چلا رہا ہے۔ میں نے حملہ کرنے سے پہلے ایران کو سمجھایا تھا، لیکن انہوں نے میری بات نہیں مانی۔ ہم ایران کے ایٹمی ٹھکانوں کو تباہ کریں گے۔‘‘
-
ٹرمپ کے مطابق ’’حملہ کرنے کا یہ اچھا وقت تھا۔ ایران مسلسل جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کے خلاف ایک طویل آپریشن کریں گے، جسے دنیا دیکھتی رہ جائے گی۔ بہتر ہوگا کہ ایران خود سپردگی کر دے۔‘‘
-
ٹرمپ نے کہا کہ ’’تقریباً 47 برسوں سے یہ (ایرانی) حکومت امریکہ پر حملے کر رہی ہے اور امریکیوں کو مار رہی ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کو میں نے اپنے پہلے دور صدارت میں ہی مار گرایا تھا۔ اب ہم ایران کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ دوسری بات، ہم ان کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں۔ ہم پہلے ہی ان کے 10 جہاز تباہ کر چکے ہیں۔ تیسری بات، ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ دنیا کا نمبر 1 دہشت گردی کا سرپرست کبھی بھی ایٹمی اسلحہ حاصل نہ کر سکے۔ میں نے شروع سے ہی کہا تھا کہ ان کے پاس کبھی ایٹمی اسلحے نہیں ہوں گے۔‘‘
-
ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’’ایرانی حکومت کا روایتی بیلسٹک میزائل پروگرام تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ اس سے امریکہ اور بیرون ملک تعینات ہماری افواج کے لیے ایک بہت بڑا اور واضح خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایران کے پاس پہلے ہی ایسی میزائلیں تھیں جو یورپ اور ہمارے مقامی و غیر ملکی ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ جلد ہی وہ امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھنے والی میزائلیں بھی بنا لیتے۔‘‘
-
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’اگر ایران کے پاس طویل فاصلہ کی میزائلیں اور ایٹمی اسلحے آ جاتے تو یہ صرف مشرق وسطیٰ ہی نہیں بلکہ امریکہ کے لیے بھی خطرہ ہوتا۔ مجھے صدر اوباما کے دور میں کیے گئے ایران ایٹمی معاہدے کو منسوخ کرنے پر بہت فخر ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































