
تاہم اسرائیل نے مسلسل اصرار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں تہران کے جوہری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنا شامل ہونا چاہیے۔ صرف یورینیم کی افزودگی روک دینا کافی نہیں ہے۔ اسرائیل نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کی حدود کو قبول کرنے کو تیار ہے لیکن اپنے میزائل پروگرام کو کسی بھی معاہدے سے جوڑنے سے انکارکرتا رہا ہے۔ تہران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا۔





