بہار میں عوامی مقامات پر گوشت-مچھلی بیچنے پر پابندی سے بنگال کی سیاست میں ہلچل، ٹی ایم سی کا بی جے پی پر حملہ

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 27, 2026362 Views


ترنمول کانگریس کے مطابق بہار میں گوشت و مچھلی کی فروخت پر پابندی لوگوں کی پسند پر کنٹرول کرنا ہے۔ اگر بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنی تو یہاں بھی گوشت و مچھلی کی خرید-فروخت پر روک لگ جائے گی۔

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

مغربی بنگال میں رواں سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ انتخابات سے عین قبل بہار حکومت کے ایک فیصلے نے بنگال کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ دراصل بہار میں عوامی مقامات پر گوشت و مچھلی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ترنمول کانگریس نے اس فیصلہ پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی لوگوں کے کھانے پینے کی پسند پر کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ اگر بنگال میں بی جے پی کی حکومت بنی تو یہاں بھی گوشت و مچھلی کی خرید و فروخت پر پابندی لگا دی جائے گی۔

ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت پہلے مندر کے آس پاس کے بازار، پھر کھلے مقامات، اور اب تعلیمی و مذہبی اداروں کے ساتھ ساتھ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں کے قریب گوشت و مچھلی کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر رہی ہے۔ پارٹی نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ گوشت و مچھلی کے استعمال پر ملک گیر پابندی ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر وجے کمار سنہا نے عوامی مقامات پر گوشت و مچھلی پر عائد کردہ پابندی کو صفائی کے لیے اٹھایا گیا قدم بتایا ہے۔ وجے کمار سنہا نے چند روز قبل کہا تھا کہ مذہبی و تعلیمی اداروں کے قریب مچھلی و گوشت کی فروخت پر پابندی لگائی جائے گی، تاکہ عوامی صحت اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے اور بچوں میں پُرتشدد رجحانات کو روکا جا سکے۔

وجے سنہا کے فیصلہ کو حکومت کی ملک گیر پالیسی قرار دیتے ہوئے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’اگر آپ بی جے پی کو ووٹ دیں گے تو وہ ہمیں بازار میں مچھلی و گوشت بیچنے نہیں دیں گے۔ مجھے سبزی خوروں سے کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن بنگال میں مچھلی و گوشت کی فروخت پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔‘‘ ٹی ایم سی نے الزام عائد کیا کہ مچھلی اور چاول کھانے والے بنگالیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ’’ہم نے ہمیشہ ان کی تنگ نظر اور قدامت پسند تشریحات کو چیلنج کیا ہے۔ ہم نے ان کے گھٹن بھرے دائرے سے باہر نکل کر پھلنے پھولنے کی ہمت دکھائی ہے۔ جسے بی جے پی سمجھ نہیں پاتی، اسے مٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر لوگ بی جے پی پر بھروسہ کریں گے تو یہی ہوگا۔ مچھلی و گوشت پر پابندی لگے گی، ہماری تھالیوں پر نگرانی رکھی جائے گی، اور آخرکار بنگالیوں کا وجود ختم ہو جائے گا۔‘‘


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...