
انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی وزیر اعظم کو اس مواد پر ناراضی ہے تو پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ گزشتہ برسوں میں درسی کتب میں ہونے والی دیگر تبدیلیوں پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی۔ جے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کو اس پورے عمل کی جامع اور آزادانہ تحقیقات کرانی چاہئیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ نصابی مواد کس طرح تیار ہوا، کن مراحل سے گزرا اور کن سطحوں پر منظوری دی گئی۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کتاب کے باب ’ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار‘ میں عدلیہ کو درپیش چیلنجز کے طور پر بدعنوانی، مقدمات کے انبار اور ججوں کی کمی کا ذکر کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس مواد کو قابل اعتراض قرار دیا۔






