بی جے پی لیڈر نے مسلمان عورتوں کے درمیان تقسیم کیے گئے کمبل واپس لیے، بولے – برا لگتا ہے تو لگے

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 23, 2026359 Views


اتوار کو سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں بی جے پی لیڈر اور سابق ایم پی سکھبیر سنگھ جوناپوریا راجستھان کے ٹونک کے ایک گاؤں میں کمبل تقسیم کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اسی ویڈیو میں نظر آتا ہے کہ وہ مسلمان عورتوں سے کمبل واپس لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ‘جو مودی کو گالی دیتا ہے، اسے کمبل لینے کا حق نہیں ہے۔’ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر خواتین کو برا لگا تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سکھبیر سنگھ جوناپوریا کے کمبل تقسیم کرنے کے ویڈیو کا اسکرین گریب۔ (تصویر بہ شکریہ: سوشل میڈیا)

نئی دہلی: راجستھان میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق رکن پارلیامنٹ اور رکن اسمبلی سکھبیر سنگھ جوناپوریا مبینہ طور پر کمبل تقسیم کرنے کے ایک پروگرام کے دوران مسلم خواتین کو کمبل دینے سے انکار کرتے ہوئے انہیں دیے گئے کمبل واپس لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق، اتوار (22 فروری) کو سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں سابق ایم پی مسلم خواتین سے کمبل واپس لیتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں کہ ‘جو مودی کو گالی دیتا ہے، اسے کمبل لینے کا حق نہیں ہے۔’

مبینہ طور پر انہیں یہ کہتے سنا جا سکتا ہے،’میری بات سنو، جو لوگ (وزیر اعظم) مودی کو گالی دیتے ہیں، انہیں (کمبل) لینے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر آپ کو برا لگ رہا ہے تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔’

اس سلسلے میں ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے سُکرن خان، جنہیں کمبل دینے سے انکار کر دیا گیا، نے بتایا کہ بی جے پی لیڈر مسلم نام سن کر ‘آہت’ ہو گئے (انہیں تکلیف پہنچی)۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا،’وہ سب کو کمبل دے رہے تھے، لیکن اچانک انہوں نے اپنے اسٹاف سے ہمارے نام پوچھنے کو کہا۔ ہم نے انہیں اپنے نام بتائے۔ ہمارے مسلمان ہونے کی وجہ سے انہیں تکلیف پہنچی۔ انہوں نے فوراً ہمارے کمبل واپس لے لیے۔’

ایک جانب جہاں بی جے پی لیڈر نے کمبل تقسیم پروگرام کا ترمیم شدہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کیا، وہیں کانگریس ایم پی ہریش چندر مینا نے اس واقعہ سے متعلق مکمل ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا۔

اس ویڈیو میں بی جے پی لیڈر خواتین کے نام پوچھتے نظر آ رہے ہیں، اور جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ وہ مسلمان ہیں ،تو وہ اپنے معاونین کو انہیں کمبل نہ دینے کی ہدایت دیتے ہیں۔

وائرل ویڈیو میں دکھائی دے رہا ہے کہ سابق ایم پی سکھبیر سنگھ جوناپوریا خواتین کے درمیان کمبل تقسیم کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے ایک خاتون سے ان کا نام پوچھا۔ خاتون کے نام بتانے کے بعد جوناپوریا کا رویہ بدلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیو میں وہ کہتے سنائی دے رہے  ہیں،’جو مودی کو گالی دیتا ہے، اسے کمبل لینے کا حق نہیں ہے۔’

اس کے بعد انہوں نے خاتون سے کمبل وہیں چھوڑنے اور ایک طرف ہٹنے کو کہا۔

برا لگتا ہے تو لگے

اس کے بعد جوناپوریا خواتین کو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہتے نظر آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر خواتین کو برا لگا تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

سابق ایم پی مبینہ طور پر مسلم خواتین کے بارے میں یہ بھی کہتے ہیں،’وہ کمبل لے لیں گی اور بعد میں شیخی بگھاریں گی کہ انہوں نے ہمیں بیوقوف بنایا۔ آپ بحث کیوں کر رہے ہیں؟ بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کوئی سرکاری اسکیم نہیں ہے۔’

قابل ذکر ہے کہ بی جے پی نے اب تک اس معاملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

تاہم، جوناپوریا کے دفاع میں ہوا محل اسمبلی حلقہ سے بی جے پی ایم ایل اے بالمکند آچاریہ نے کہا کہ یہ ہندو مسلم کا مسئلہ نہیں ہے اور اسے فرقہ وارانہ رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ شخص بی جے پی کا کارکن ہے اور پارٹی کارکن وزیر اعظم کے خلاف نازیبا الفاظ برداشت نہیں کرے گا۔ یہ مسئلہ ہندو مسلم کا نہیں، بلکہ طرز عمل  اور سوچ کا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق، پروگرام میں موجود کچھ مقامی لوگوں نے اس پر اعتراض بھی کیا اور مخالفت کی، لیکن جوناپوریا نے اسے اپنا ذاتی پروگرام قرار دیتے ہوئے بحث کرنے سے انکار کر دیا۔ ویڈیو میں وہ مقامی بی جے پی کارکنان سے یہ کہتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ اگر کسی کو بٹھانا ہے تو وہ بٹھا سکتے ہیں، لیکن کمبل تقسیم ان کا ذاتی پروگرام ہے۔

اس معاملے میں بزرگ خواتین نے الزام لگایا کہ انہیں پہلے کمبل دے دیے گئے تھے، لیکن جب ان کی پہچان مسلمان کے طور پر ہوئی تو کمبل واپس لے لیے گئے اور انہیں پروگرام کی جگہ سے ہٹنے کو کہا گیا۔ خواتین کا کہنا ہے کہ اس رویے سے انہیں عوامی طور پر بے عزتی محسوس ہوئی۔

معاملے کو طول دینے کی ضرورت نہیں: جوناپوریا

وہیں،اس پورے تنازعہ پر سکھبیر سنگھ جوناپوریا نے کہا کہ وہ سرکاری اسکیم کے تحت کمبل تقسیم نہیں کر رہے تھے بلکہ یہ ان کا ذاتی پروگرام تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ جب یہ سرکاری پروگرام تھا ہی نہیں تو اسے طول دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

کانگریس رہنماؤں اور سماجی تنظیموں نے اس رویے کو امتیازی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

اس سلسلے میں قائد حزب اختلاف ٹیکارام جولی نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک سابق عوامی نمائندے سے اس طرح کے رویے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

کانگریس کی ترجمان سپریا شرینیت نے بھی اس معاملے پر سوشل میڈیا کے ذریعے بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔

انہوں نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ایک غریب مسلم خاتون کو بے عزت کر کے ان کا کمبل واپس لے لیا گیا۔ اصل میں دل اور دماغ سے مفلس اس شخص کے کمبل اس کے منہ پر دے مارنا چاہیے تھا۔

بتایا جا رہا ہے کہ دیر رات گئے یوتھ کانگریس کے کارکنان نے گاؤں پہنچ کر خواتین کے درمیان کمبل تقسیم کیا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...