
یہاں سوال اٹھتا ہے کہ جب انصاف کی زبان ہی عام آدمی کے لیے ناقابلِ فہم ہو، تو سماجی انصاف کیسے ممکن ہے؟ وزیراعظم نریندر مودی بارہا کہہ چکے ہیں کہ عدالتی فیصلوں اور کارروائی کی زبان ایسی ہونی چاہیے جسے عام شہری بھی سمجھ سکے، مگر عملی سطح پر اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت نظر نہیں آتی۔
گزشتہ برس سپریم کورٹ میں قانونی امداد کے نظام پر منعقد ایک قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ جب تک انصاف کی زبان قابلِ فہم نہیں ہوگی، سماجی انصاف ممکن نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ محض بیانات سے یہ مقصد کیسے حاصل ہوگا؟
اصل مسئلہ یہ سمجھنے کا ہے کہ عدالتوں میں انصاف کی زبان کا مطلب صرف ترجمہ نہیں، بلکہ ایسی زبان ہے جس میں قانونی اصطلاحات سادہ، واضح اور عام فہم ہوں۔ جب تک قانون کی زبان عام انسان کے شعور سے جڑی نہیں ہوگی، لوگ انصاف کے عمل میں اعتماد کے ساتھ شامل نہیں ہو سکیں گے۔






