جب انصاف کی راہ میں زبان ہی رکاوٹ بن جائے تو مظلوم کہاں جائے؟

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 10, 2026365 Views


یہاں سوال اٹھتا ہے کہ جب انصاف کی زبان ہی عام آدمی کے لیے ناقابلِ فہم ہو، تو سماجی انصاف کیسے ممکن ہے؟ وزیراعظم نریندر مودی بارہا کہہ چکے ہیں کہ عدالتی فیصلوں اور کارروائی کی زبان ایسی ہونی چاہیے جسے عام شہری بھی سمجھ سکے، مگر عملی سطح پر اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت نظر نہیں آتی۔

گزشتہ برس سپریم کورٹ میں قانونی امداد کے نظام پر منعقد ایک قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ جب تک انصاف کی زبان قابلِ فہم نہیں ہوگی، سماجی انصاف ممکن نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ محض بیانات سے یہ مقصد کیسے حاصل ہوگا؟

اصل مسئلہ یہ سمجھنے کا ہے کہ عدالتوں میں انصاف کی زبان کا مطلب صرف ترجمہ نہیں، بلکہ ایسی زبان ہے جس میں قانونی اصطلاحات سادہ، واضح اور عام فہم ہوں۔ جب تک قانون کی زبان عام انسان کے شعور سے جڑی نہیں ہوگی، لوگ انصاف کے عمل میں اعتماد کے ساتھ شامل نہیں ہو سکیں گے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...