عدالت کے حکم کے بعد گلفشاں فاطمہ کی تہاڑ جیل سے رہائی، اہلِ خانہ سے ملاقات پر جذباتی مناظر

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 8, 2026363 Views


گلفشاں فاطمہ کے معاملے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران انہوں نے مختلف احتجاجی مقامات پر آزادانہ کمان، وسائل پر کنٹرول یا اسٹریٹجک نگرانی نہیں کی۔ عدالت کے مطابق یہ الزام کہ انہوں نے مقامی خواتین کو منظم کیا اور احتجاجی مقام کے انتظامات میں تال میل قائم کیا، استغاثہ کے لیے اہم ہو سکتا ہے، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کے پاس کئی مقامات پر فیصلہ کن اختیار تھا۔

فروری 2020 میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران شمال مشرقی دہلی میں تشدد بھڑک اٹھا تھا، جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس معاملے میں نامزد 20 ملزمان میں سے دو اب بھی مفرور ہیں، جبکہ سات ملزمان تاحال جیل میں ہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...