بہار کی خواتین قرض کے جال سے کیسے نجات پائیں…نندلال شرما

AhmadJunaidJ&K News urduNovember 16, 2025363 Views


دیپانکر کے مطابق انتخابات کے دوران خواتین نے زور سے نعرے لگائے، ’دس ہزار میں دم نہیں، قرض معافی سے کم نہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی نقد رقم سے بحران حل نہیں ہوگا، پورے بہار میں بڑے پیمانے پر قرض معافی کا مطالبہ ہو رہا ہے۔

مہاگٹھ بندھن نے وعدہ کیا تھا کہ خواتین کے قرض پر سود معاف کیا جائے گا اور نئی حکومت سے بھی ایسی توقعات ہوں گی، مگر شبنم اسے ناکافی قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق اصل راحت کے لیے کم از کم بنیادی قرض کی جزوی معافی اور ادائیگی کی مدت میں نرمی ضروری ہے۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ جب بڑے صنعت کاروں کے ہزاروں کروڑ کے قرض معاف ہو سکتے ہیں، تو غریب ترین خواتین کے معمولی قرض کیوں نہیں؟

حکومت کو چاہئے کہ ان قرضوں کے جال کو توڑے، خواتین کی عزتِ نفس بحال کرے اور نظامی اصلاحات کے ذریعے انہیں پھر سے اعتماد دلائے۔ ان خواتین کو ترس سے زیادہ انصاف کی ضرورت ہے۔

(نام تبدیل کر دیے گئے ہیں)

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...