
جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ نے اس معاملے پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ ہر ریاست سے متعلق عرضیوں پر الگ الگ جواب داخل کرے۔ عدالتِ عظمیٰ نے مدراس اور کلکتہ ہائی کورٹ کو تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں اس عمل سے متعلق زیرِ سماعت مقدمات میں مزید کارروائی سے روک دیا ہے۔ عدالت نے آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کڑگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کو اس معاملے میں فریق بننے کی اجازت بھی دے دی۔
ڈی ایم کے کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کے روبرو کہا کہ یہ عمل مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلدبازی میں کیا جا رہا ہے، جس میں ووٹروں سے الگ الگ دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں۔ سبل نے عدالت کو بتایا کہ نومبر اور دسمبر کے دوران تمل ناڈو عام طور پر شمال مشرقی مانسون کی زد میں رہتا ہے اور اس دوران ریاست کے ساحلی اضلاع میں شدید بارشیں ہوتی ہیں۔






