
قابل ذکر ہے کہ گلوان وادی کے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے رشتے 1962 کی جنگ کے بعد سب سے خراب صورتحال میں پہنچ گئے تھے۔ حالانکہ بعد میں کئی دور کی سفارتی اور فوجی بات چیت کے ذریعہ پینگونگ جھیل، گلوان اور ہاٹ اسپرنگس جیسے کئی کشیدہ علاقوں سے فوجیں پیچھے ہٹ گئیں۔ اکتوبر 2024 میں دیپسانگ اور ڈیمچوک علاقوں سے بھی فوجیں ہٹانے کا معاہدہ ہوا۔ اس کے کچھ ہی روز بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جنپنگ کی روس کے کازان میں میٹنگ ہوئی، جس میں دوطرفہ رشتوں کو پٹری پر لانے کے لیے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔





