16 سال تک وزیر اعظم رہے ٹرمپ کے حمایتی وکٹر اوربان کو شکست کا سامنا

AhmadJunaidJ&K News urduApril 14, 2026358 Views


ہنگری میں طویل عرصے سے اقتدار میں رہے وکٹر اوربان کو پیٹر ماجیار نے انتخابات میں شکست دے دی ہے۔ تسزا پارٹی کو برتری حاصل ہوئی ہے، تاہم دو تہائی اکثریت غیر یقینی ہے۔ اس نتیجے کو یورپ کی دائیں بازو کی سیاست کے لیے ایک جھٹکا مانا جا رہا ہے اور یہ ملک کی سیاسی سمت میں تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے۔

وکٹر اوربان (تصویر: اے پی)

نئی دہلی: ہنگری کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے، جہاں 45 سالہ رہنما پیٹر ماجیار نے طویل عرصے سے اقتدار پر قابض وزیر اعظم وکٹر اوربان کو انتخابات میں شکست دے دی۔ یہ نتیجہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اوربان گزشتہ 16 برسوں سے اقتدار میں تھے۔

ماجیار، جنہیں ایک قدامت پسند-لبرل رہنما سمجھا جاتا ہے ، آئندہ ہفتے حلف لیں گے۔ شکست کے بعد اوربان نے بیان جاری کرتے ہوئے کامیاب جماعت کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ اب اپوزیشن میں رہ کر ملک کی خدمت کریں گے۔

انتخابی نتائج اور سیاسی اثرات

ووٹوں کی گنتی کے دوران آئے رجحانات کے مطابق، تقریباً 77 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے تک ماجیار کی تسزا پارٹی کو 53 فیصد سے زائد حمایت حاصل ہو چکی تھی، جبکہ اوربان کی فیدیز پارٹی تقریباً 38 فیصد پر محدود ہو گئی تھی۔ تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ ماجیار کو پارلیامان میں دو تہائی اکثریت ملے گی یا انہیں اتحاد کا سہارا لینا پڑے گا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہنگری کے پیچیدہ انتخابی نظام کے باعث یہ ضروری نہیں کہ تسزا کو واضح اکثریت مل ہی جائے۔ ملک میں پارلیامان کی کئی اہم طاقتوں، جیسے عدلیہ پر کنٹرول، میڈیا کے ڈھانچے میں تبدیلی، اظہار رائے کی حدود، امیگریشن مخالف پالیسیاں اور نام نہاد ’خاندانی اقدار‘ سے متعلق قوانین کو تبدیل کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری  ہے، جو حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اس کے باوجود، اگر اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے تو اسے یورپ کی انتہائی دائیں بازو کی سیاست کے لیے ایک بڑا جھٹکا سمجھا جائے گا۔ کچھ عرصہ قبل تک یورپ میں دائیں بازو کی قوتیں تیزی سے ابھرتی دکھائی دے رہی تھیں، لیکن بین الاقوامی حالات، خصوصی طور پر مغربی ایشیا میں جنگ، نے بہت سے ووٹروں کو جارحانہ قوم پرستانہ سیاست کے خطرات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

اوربان طویل عرصے سے ڈونالڈ ٹرمپ اور روس کے حامی سمجھے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے یورپی یونین کی جانب سے پیش کیے گئے یوکرین امدادی پیکیج کو بھی ویٹو کیا تھا۔ یورپی یونین پہلے ہی ہنگری کے جمہوری اداروں پر کنٹرول کے حوالے سے تنقید کرتی رہی ہے اور اسے ’انتخابی آمریت‘ جیسا نظام قرار دیا گیا ہے۔

اقتدار کے اندر سے ابھرنے والا چیلنج

دلچسپ بات یہ ہے کہ ماجیار کبھی خود اوربان کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔ تاہم فروری 2024 میں ایک تنازعہ کے بعد انہوں نے حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یہ تنازعہ اس معاملے سے جڑا تھا جس میں ایک ایسے شخص کو صدارتی معافی دی گئی تھی، جسے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق جرم کو چھپانے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

اس واقعہ کے بعد اس وقت کی صدر کاتالین نوواک اور وزیر انصاف یودیت وارگا کو استعفیٰ دینا پڑا۔ ماجیار نے الزام لگایا تھا کہ حکومت نے خود کو بچانے کے لیے خواتین کو ’ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔‘

ٹرمپ پر تبصرہ اور سیاسی مؤقف

ماجیار نے ماضی میں کئی بار ٹرمپ کے بارے میں عوامی تبصرے کیے ہیں۔ نومبر 2025 میں انہوں نے ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین سے کھل کر بحث کرنے سے نہیں گھبراتے، جبکہ اوربان پر انہوں نے اس معاملے میں پیچھے رہنے کا الزام لگایا۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ٹرمپ’پیدائشی رہنما‘ہیں، جبکہ اوربان ان کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی طرح 2024 میں امریکی انتخابات کے بعد ماجیار نے ٹرمپ کو جیت کی مبارکباد دی تھی اور کہا تھا کہ امریکہ ہنگری کا ایک اہم اتحادی ہے اور ان کی جماعت نئی امریکی حکومت کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار ہے۔

اوربان کا سیاسی سفر

اوربان کا سیاسی سفر بھی خاصا دلچسپ رہا ہے۔ 1980 کی دہائی کے آخر میں وہ ایک نوجوان لبرل اسٹوڈنٹ لیڈر کے طور پر ابھرے تھے۔ ان کی جماعت فیدیسز کی شروعات’ینگ ڈیموکریٹس‘کے ایک لبرل گروپ کے طور پر ہوئی تھی۔ لیکن 1990 کی دہائی کے آخر تک وہ دائیں بازو کی سوچ کی طرف مائل ہو گئے اور 2000 کے بعد ان کا رجحان مکمل طور پر ’عیسائی قوم پرستی‘کی طرف ہو گیا۔

وقت کے ساتھ ان کی شبیہ ایک سخت حکمران کی بنتی گئی، جو تنقید یا مخالفت کو زیادہ جگہ نہیں دیتا۔ ان کی حکومت پر کئی بار بدعنوانی کے الزامات لگے، لیکن اس کے باوجود وہ مسلسل انتخابات جیتتے رہے۔

یورپی یونین کے ساتھ ان کے تعلقات بھی کشیدہ رہے ہیں۔ عدلیہ اور میڈیا پر کنٹرول کے معاملات پر برسلز نے ہنگری کے لیے مختص اربوں ڈالر کی ترقیاتی امداد روک دی تھی۔ اس وقت تقریباً 17 ارب ڈالر کی رقم اب بھی روکی ہوئی ہے۔ اس کے جواب میں ہنگری نے بھی کئی مواقع پر یورپی یونین کے فیصلوں میں رکاوٹ ڈالی۔

اوربان پر انتخابی حلقوں کی ازسرنو حد بندی (گیری مینڈرنگ) کے ذریعے اپنی جماعت کو فائدہ پہنچانے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ موجودہ پارلیامنٹ 199 نشستوں پر مشتمل ہے اور کئی اہم تبدیلیوں کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اوربان ہار بھی جائیں، تو نئی حکومت کے لیے پالیسی میں بڑی تبدیلیاں لانا آسان نہیں ہوگا۔

آگے کا چیلنج

اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نئی حکومت یورپ اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس طرح متوازن بناتی ہے۔ ہنگری پہلے ہی یورپی یونین کا رکن ہے، اس لیے ماجیار کی خارجہ پالیسی آئندہ دور میں نہایت اہم کردار ادا کرے گی۔

مجموعی طور پر، یہ انتخاب محض اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ ہنگری کی سیاسی سمت میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...