متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے فجیرہ میں ہوئے حملہ پر حکومت ہند نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس حملہ میں کم از کم 3 ہندوستانی شہری زخمی ہوئے ہیں، جس کے بعد ہندوستان نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائی ناقابل قبول ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اس تعلق سے جاری ایک بیان اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ فجیرہ پر حملہ اور اس میں ہندوستانیوں کا زخمی ہونا ایک سنگین معاملہ ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان نے تمام ممالک سے فوری طور پر تشدد روکنے کی اپیل کی ہے۔
حکومت ہند کا کہنا ہے کہ عام لوگوں اور شہری ڈھانچے کو نشانہ بنانا بالکل غلط ہے اور اسے فوراً بند کیا جانا چاہیے۔ ہندوستان نے اپنی اس بات کو بھی دہرایا ہے کہ اس طرح کے بحران کا حل صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعہ ہی نکل سکتا ہے۔ مغربی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق اپنا نظریہ سامنے رکھتے ہوئے ہندوستان نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ پر بلا رکاوٹ آمد و رفت ضروری ہے۔ یہ علاقہ دنیا کے لیے بہت اہم ہے۔ وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان امن برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔
قابل ذکر ہے کہ یہ حملہ پیر کے روز فجیرہ آئل انڈسٹری زون میں ہوا تھا۔ رپورٹس کے مطابق حملہ ڈرون کے ذریعہ کیا گیا، جس کے بعد وہاں آگ لگ گئی۔ مقامی حکام نے بتایا کہ آگ لگتے ہی سول ڈیفنس کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور آگ بجھانے کا کام شروع کیا۔ اس واقعہ میں زخمی ہونے والے تینوں ہندوستانیوں کو درمیانی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں اور انہیں اسپتال میں بغرض علاج داخل کرایا گیا ہے۔
یو اے ای میں قائم ہندوستانی سفارت خانہ نے بتایا کہ وہ مقامی انتظامیہ کے رابطے میں ہے اور زخمیوں کے علاج اور دیکھ بھال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس درمیان یو اے ای کی وزارت دفاع نے مطلع کیا ہے کہ ایران نے 4 میزائل داغے تھے۔ ان میں سے 3 کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ ایک سمندر میں جا گرا۔ مقامی انتظامیہ نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































