’یہ بل پارلیمنٹ کو کمزور کر اقتدار قائم رکھنے کی کھوکھلی کوشش‘، خواتین ریزرویشن بل پر کانگریس لیڈران کا تلخ تبصرہ

AhmadJunaidJ&K News urduApril 16, 2026360 Views


منیش تیواری:

یہ خواتین ریزرویشن کا بل نہیں ہے، بلکہ حلقہ بندی کا بل ہے، جس پر خواتین ریزرویشن کا لبادہ پہنا دیا گیا ہے۔ کیونکہ خواتین ریزرویشن تو سال 2023 میں ہی منظور ہو گیا تھا اور اس میں کہا گیا تھا کہ 2023 کے بعد کی مردم شماری اور حلقہ بندی کے بعد خواتین ریزرویشن کو نافذ کیا جائے گا۔ پچھلے 30 مہینوں میں ایسا کیا بدل گیا کہ 2023 کے بعد کی مردم شماری کی بات کرنے والی حکومت 2011 کی مردم شماری پر پہنچ گئی۔ اس بات کا جواب مودی حکومت کو دینا ہوگا۔

بل میں لکھا گیا ہے کہ کل نشستیں 850 ہوں گی، حلقہ بندی 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر ہوگی اور اس حساب سے ایک لوک سبھا حلقے میں 14.85 لاکھ ووٹ ہوں گے۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ ملک کے مختلف حصوں میں نشستیں بڑھیں گی۔ ایسے میں سوال تناسب کا نہیں بلکہ تعداد کا ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں نشستوں کی تعداد 815 یا 850 ہوگی تو چھوٹی ریاستوں کا غلبہ کم ہو جائے گا۔

مودی حکومت جو یہ بل لے کر آئی ہے، اس کے مطابق اتر پردیش کی حلقہ بندی ہو ہی نہیں پائے گی، کیونکہ حکومت نے دفعہ (1)170 میں ترمیم ہی نہیں کی۔ دفعہ (1)170 کہتی ہے کہ 60 نشستوں سے کم اور 500 نشستوں سے زیادہ کی اسمبلی نہیں ہو سکتی۔ اب اگر یوپی کی حلقہ بندی ہوگی تو وہاں اسمبلی نشستیں تو 560 تک پہنچ جائیں گی۔ ایسے میں حکومت یوپی میں حلقہ بندی کیسے کرے گی، کیونکہ انہوں نے تو دفعہ (1)170 میں ترمیم ہی نہیں کی۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...