ہندوستان کے پڑوس میں نیا ملک بنانے کی کوششیں تیز، رخائن کے 17 میں سے 14 علاقوں پر باغیوں کا قبضہ

AhmadJunaidJ&K News urduJune 5, 2026359 Views


29 مئی سے یکم جون کے درمیان ستوے کے قریب جُنٹا فوج اور اراکان آرمی کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں جُنٹا فوج کے 40 اہلکار مارے گئے۔

علامتی تصویرعلامتی تصویر

i

user

google_preferred_badge

ہندوستان کے پڑوسی ملک میانمار سے ریاست رخائن کی آزادی کا اعلان کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ اراکان آرمی، یعنی باغیوں نے رخائن کو الگ کرنے کی جدوجہد انتہائی تیز کر دی ہے۔ راجدھانی ستوے کا اراکان کے جنگجوؤں نے محاصرہ کر لیا ہے اور اس جنگ کو آخری بڑی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر راجدھانی ستوے پر اراکان آرمی کا قبضہ ہو جاتا ہے تو باغی گروپ رخائن کو ایک الگ ملک بنانے کا اعلان کر دے گا۔

مقامی اخبار ’دی اراوادی‘ کے مطابق اراکان آرمی پہلے ہی 17 میں سے 14 علاقوں پر قبضہ کر چکی ہے۔ اب باقی 3 علاقوں پر قبضے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اراکان آرمی نے ستوے کے اطراف اپنے محاذ بھی قائم کر لیے ہیں اور اس کی پوری توجہ ستوے پر کنٹرول حاصل کرنے پر ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 2009 میں اراکان نسل (بدھ مت کے پیروکار) نے رخائن کو زیادہ انتظامی اختیارات دینے کے مطالبے کے ساتھ تحریک شروع کی۔ اسی سال اراکان آرمی کی تشکیل بھی کی گئی۔ رخائن بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد کے قریب واقع ایک صوبہ ہے۔ یہاں 2016 کے بعد بغاوت نے شدت اختیار کر لی۔ اراکان آرمی سے وابستہ افراد نے ابتدا میں یہاں کی روہنگیا برادری کے خلاف قتل عام کی مہم شروع کی۔ آبادی کے اعتبار سے روہنگیا اس علاقے میں اقلیت میں تھے۔

اراکان آرمی کی کارروائیوں کے باعث روہنگیا برادری کو یہاں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔ اسی دوران میانمار کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور فوج نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے بعد اراکان آرمی نے اپنی بغاوت کو مزید تیز کر دیا۔ ابتدا میں فضائی حملوں کی وجہ سے اراکان آرمی جنٹا فوج کے مقابلے میں کمزور دکھائی دے رہی تھی، لیکن بعد میں اس نے علاقے میں اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ اب اراکان آرمی کا مطالبہ رخائن کو ایک الگ ریاست بنانا ہے۔

اراکان آرمی کے کمانڈر ان چیف تُن میات نائنگ نے 2027 تک ’مکمل طور پر آزاد اراکان‘ کا ہدف مقرر کیا ہے۔ نائنگ کا کہنا ہے کہ تب تک ان کی فوج اتنی مضبوط ہو جائے گی کہ میانمار کی فوج کو یہ علاقہ چھوڑ کر بھاگنا پڑے گا۔ مقامی اخبار ’اراوادی‘ کے مطابق اراکان آرمی نے ستوے کے اطراف فوجی ٹینکرس اور رسد کی سپلائی روکنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔

واضح رہے کہ 29 مئی سے یکم جون کے درمیان ستوے کے قریب جُنٹا فوج اور اراکان آرمی کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں جُنٹا فوج کے 40 اہلکار مارے گئے۔ اب تک اراکان آرمی میانمار کی فوج کے فضائی حملوں کے سامنے نسبتاً کمزور ثابت ہو رہی تھی، لیکن حالیہ مہینوں میں جنگجوؤں نے ڈرونز اور کندھے پر رکھ کر داغے جانے والے میزائل حاصل کر لیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں میانمار کی جنٹا فوج کو فضائی حملے کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی لیے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ریاست رخائن کی آزادی کا اعلان کسی بھی وقت ممکن ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...