سولن کے ’چیسٹر ہل پروجیکٹ‘ میں قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر کی گئی تعمیرات کے پیش نظر، حکومت نے 9 سال بعد ریاست میں دوبارہ ’اپارٹمنٹ ایکٹ‘ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد ریاست میں رہائشی منصوبوں کی من مانی تعمیرات پر لگام لگے گی اور ایکسٹرنل ڈیولپمنٹ چارجز (ای ڈی سی) کی وصولی شروع ہو سکے گی، جس سے ریاست کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اپارٹمنٹ ایکٹ کے تحت ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کو قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے اختیارات دیے جائیں گے۔ وزیر برائے ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ راجیش دھرمانی نے اس کی تصدیق کی ہے۔
اپارٹمنٹ ایکٹ نافذ ہونے کے بعد حکومت بلڈروں سے ایکسٹرنل ڈیولپمنٹ چارجز (ای ڈی سی) کی وصولی بھی شروع کر دے گی۔ ان چارجز کی شرح ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے فی مربع میٹر کے حساب سے میونسپل کارپوریشن کے علاقوں، منصوبہ بند علاقوں اور خصوصی علاقوں کے لیے الگ الگ طے کی جائیں گی۔
بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بلڈروں سے سڑک، سیوریج، پانی اور اسٹریٹ لائٹ جیسی عوامی سہولیات کے انتظام کے عوض ای ڈی سی وصول کیا جاتا ہے۔ ریاست میں رہائشی منصوبوں (اپارٹمنٹس) کے تحت ہونے والی تعمیرات کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا گیا ’ہماچل پردیش اپارٹمنٹ اینڈ پراپرٹی ریگولیشن ایکٹ 2005‘، ستمبر 2005 میں نافذ کیا گیا تھا۔ رہائشی منصوبوں سے متعلق تمام عمل پہلے ’ہیموڈا‘ دیکھتا تھا۔ حالانکہ مرکزی حکومت کی جانب سے 2016 میں ’ریرا‘ نافذ کیے جانے کے بعد، قانونی یکسانیت لانے اور دوہرے قوانین سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو ختم کرنے کے لیے اپارٹمنٹ ایکٹ کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔
رہائشی منصوبوں میں اب پانی اور سڑک جیسی بنیادی سہولیات کے بغیر ڈیولپر کو ای سی (انکمبرنس سرٹیفکیٹ) جاری نہیں کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت نے ٹاؤن اینڈ کنٹری پلاننگ ڈپارٹمنٹ کو اس سلسلے میں واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ حال ہی میں ’چیسٹر ہِل پروجیکٹ‘ میں پانی اور راستے کی کمی پر ہونے والے احتجاج کے بعد لیا گیا ہے۔ اب پانی کی وافر فراہمی اور سڑک کے رابطے کو یقینی بنانے کے بعد ہی سرٹیفکیٹ ملے گا۔ ساتھ ہی پرانے اور زیر تعمیر منصوبوں کی جانچ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو خامیوں کی نشاندہی کر کے ان کا حل تجویز کرے گی۔
قابل ذکر ہے کہ ریاستی حکومت نے ریاست میں بننے والے رہائشی منصوبوں کے لیے بلڈروں کی رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے۔ رجسٹریشن ہونے کے بعد، اگر تعمیر کے دوران قوانین کی خلاف ورزی کی گئی تو حکومت بلڈر کے خلاف کارروائی کرے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































