گوری لنکیش کے قتل کے تقریباً نو سال بعد کیس کی شنوائی ساتویں جج کے پاس پہنچی

AhmadJunaidJ&K News urduJune 12, 2026358 Views


صحافی گوری لنکیش کو 5 ستمبر 2017 کو بنگلورو میں ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں سے وابستہ لوگوں کے خلاف شنوائی  چل رہی ہے۔ اس کیس کی شنوائی کرنے والے جسٹس کے ایس بھرت کمار ساتویں جج ہیں۔ اس سے قبل سماعت کرنے والے چھ ججوں کو ہائی کورٹ میں عہدے کی ترقی دے دی گئی  ہےاور ایک جج کا تبادلہ ہائی کورٹ کے سینئر انتظامی عہدے پر کر دیا گیا ہے۔

ستمبر 2017 میں گوری لنکیش کو ان کے گھر پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: صحافی اور سماجی کارکن گوری لنکیش کے قتل کے الزام میں دائیں بازو کے ہندوتوا گروپوں سے تعلق رکھنے والے 17 لوگوں کے خلاف جاری مقدمے کی سماعت اب ساتویں جج کے پاس پہنچ گئی ہے۔ ان 17 ملزمان کے خلاف فرد جرم 2018 میں داخل کی گئی تھی، جبکہ شنوائی 2022 میں شروع ہوئی تھی۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، منگل (10 جون) کو کے ایس بھرت کمار نے شنوائی شروع کی، کیونکہ اس سے قبل مقدمہ سننے والے جج ایم چندر شیکھر ریڈی کا تبادلہ کرناٹک ہائی کورٹ کے ایک سینئر انتظامی عہدے پر کر دیا گیا تھا۔

کمار نے 1 جون کو بنگلورو کی پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کا چارج سنبھالا۔ انہوں نے ایک پولیس کانسٹبل کا بیان ریکارڈ کر کے سماعت شروع کی۔ یہ کانسٹبل اس معاملے میں استغاثہ کے 400 گواہوں میں سے 216واں گواہ ہے۔

مقدمے کی شنوائی 4 جولائی 2022 کو شروع ہوئی تھی اور تب سے روزانہ چل رہی ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، اس کیس کی سماعت کرنے والے دوسرے تمام سابق جج ایس امرناور، انل کٹی، سی ایم جوشی، رام کرشنا ہڈار اور بی مرلی دھر پائی کو ہائی کورٹ میں عہدے کی ترقی دی گئی ہے۔

گوری لنکیش ہفتہ وار جریدے ’لنکیش پتریکے‘کی مدیر تھیں۔ ہندوتوا کی کھل کر تنقید کرنے والی گوری لنکیش کو 5 ستمبر 2017 کی رات دیر گئے بنگلورو میں ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل کرنے والے دو لوگ موٹر سائیکل پر آئے تھے، جن کی پہچان بیجاپور میں شری رام سینا کے سابق رکن 26 سالہ پرشورام واگھمارے اور ہبلی کے 27 سالہ ہندوتوا کارکن گنیش مسکین کے طور پر ہوئی تھی۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم(ایس آئی ٹی)کے مطابق، ان کے قتل کی منصوبہ بندی سناتن سنستھا کے بینر تلے کام کرنے والے شدت پسند دائیں بازو کے گروپوں نے کی تھی۔ ایس آئی ٹی کا کہنا ہے کہ ان گروپوں نے 2013 سے 2018 کے درمیان ہندوتوا کے ناقدین کے قتل اور ان پر حملوں کے لیے ایک منظم نیٹ ورک (سنڈیکیٹ) تیار کیا تھا۔ اس مبینہ ’ہٹ لسٹ‘میں دی وائر کے بانی مدیر سدھارتھ وردراجن کا نام بھی شامل تھا۔

ابتدائی چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ گوری لنکیش کے قتل میں اسی پستول کااستعمال کیا گیا تھا جو 30 اگست 2015 کو کرناٹک کے دھارواڑ میں ایم ایم کلبرگی کے قتل میں استعمال کیا گیا تھا۔

اخبار کے مطابق، مئی 2025 میں بیلگاوی کے ایک گواہ، جس نے پہلے عدالت میں بیرونی ماہرین کے زیر انتظام تربیتی کیمپوں میں شرکت کے بارے میں بیان دیا تھا، اپنے بیان سے منحرف ہو گیا اور اس نے اپنے پہلے کی باتوں سے انکار کر دیا۔

کرناٹک کے اڈپی سے تعلق رکھنے والے استغاثہ کے ایک گواہ، جس کی پہچان دائیں بازو کے ہندوتوا سنڈیکیٹ کے ذریعے بھرتی کیے گئے لوگوں  میں کی گئی تھی، نے بھی گروپ کی بیٹھکوں اور تربیتی کیمپ میں شرکت لینےسے انکار کر دیا۔

استغاثہ کے ایک اور گواہ، جس کا تعلق ہندو جن جاگرتی سمیتی سے بتایا گیا ہے اور جس پر الزام تھا کہ اس نے صحافی کے گھر کی ریکی (خفیہ نگرانی) کے لیے ایک ملزم کو اپنی موٹر سائیکل دی تھی، مبینہ طور پر وہ بھی اپنے بیان سے مکر گیا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...