
ایران نے نہ صرف جنگ بندی سے انکار کیا ہے، بلکہ اس تنازع نے خلیجی ممالک کی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے سے ان ممالک کی آمدنی پر برا اثر پڑا ہے۔ ہوائی سفر اور تجارتی سرگرمیاں بھی محدود ہو گئی ہیں، جبکہ عالمی سطح پر ان کی حیثیت کو دھچکا پہنچا ہے۔
لندن میں ایک سیمینار کے دوران، ایک اماراتی تجزیہ کار نے کہا کہ اس جنگ کے بعد خلیجی ممالک کو اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، وہ سکیورٹی نظام جس پر یہ ممالک دہائیوں سے انحصار کرتے آئے ہیں، اب قابل اعتماد نہیں رہا۔
ایران بھی اب یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے بند کیے جائیں۔ امریکہ کے لیے یہ معاملہ صرف اپنے اتحادیوں کا دفاع نہیں بلکہ اپنے اسٹریٹجک مفادات کا تحفظ بھی ہے، اس لیے اس کا مکمل انخلا آسان نہیں ہوگا۔ تاہم، اب سوال یہ ہے کہ اس کے اتحادی اس پر کتنا اعتماد کر پائیں گے۔






