کس کا کشمیر، کس کا دکھ؟ ادھورے گیت اور ناگوار سچائیاں

AhmadJunaidJ&K News urduMay 27, 2026358 Views


ناول کی کامیابی یہ ہے کہ یہ پنڈتوں کو یکطرفہ طور پر ولن یا وہیرو بنا کر پیش نہیں کرتا۔ یہ انہیں زخمی انسانوں کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ یہ قاری کو 1990 میں ایک پنڈت خاندان کے خوف کو محسوس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن بعد میں یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس خاندان کی یادداشت ادھوری ہے۔عمیر احمد خان نے دراصل نہ صرف جلاوطنی ایک ناول لکھا ہے، بلکہ واپسی کا ناول لکھا ہے۔

ناول کا سرورق اور ناول نگار عمیر احمد خان، تصویر بہ شکریہ: روپا پبلی کیشنز

بعض ناول تاریخ کو بیان کرتے ہیں، اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو اسے اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں، خاموشی سے اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں، اور پھر اسے کچھ اس انداز میں ظاہر کرتے ہیں جو داستان گوئی سے زیادہ ایک گواہی محسوس ہوتی ہے۔

عمیر احمد خان کا حال ہی انگریزی میں شائع ناول دی ویلی آف ان فنشڈ سونگز اسی قبیل کا ناول ہے۔

اس ناول کا پلاٹ  1990 اور پھر، سرینگر، ممبئی اور لاہور کے درمیان سفر کرتا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ تین سو صفحات پر محیط اس ناول کی کہانی باہم متصادم سچائیوں کے درمیان حرکت کرتی ہے؛ وہ سچائیاں  جو  دبا دی گئیں، اور وہ جنہیں سیاست کے لیے گھڑا گیا۔

اس ناول کے مرکز میں ایک سادہ مگر دل دہلا دینے والا تصور موجود ہے؛کشمیر میں کچھ بھی کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ نہ دکھ، نہ پچھتاوا، نہ وابستگی اور نہ ہی دغا بازی۔ سب کچھ باقی رہ جاتا ہے، کسی ادھورے گیت کی طرح، جس کو اگلی نسل سننے کے لیے منتظر ہوتی ہے۔

 اس  ناول کا آغاز 19 جنوری 1990 کی اس رات سے ہوتا ہے جو اب عوامی یادداشت کا حصہ بن چکی ہے۔ یخ بستہ جاڑوں جس کو چلہ کلاں کہتے ہیں کی جمی ہوئی تاریکی میں ایک کشمیری پنڈت  رینہ خاندان اپنے گھر کے اندر بیٹھے ہیں جبکہ باہر نعروں کی آوازیں گونج رہی ہیں۔

یہ المیہ تہوں کی صورت میں کھلتا ہے؛ ایک باپ کو اس وقت قتل کر دیا جاتا ہے جب وہ ایک نظم پڑھ رہے ہوتے ہیں، ایک شوہر ڈل جھیل کے پانیوں میں کھو جاتا ہے، اور ایک محافظ اس وقت گولی کا شکار ہو جاتا ہے جب وہ خاندان کو وہاں سے فرار ہونے میں مدد کر رہا ہوتا ہے۔

خاندان وہاں سے ہجرت تو کر جاتا ہے، لیکن اس فرار کا مطلب سلامتی ہرگز نہیں  ہوتاہے۔ یہ تو محض ایک طویل بربادی اور بکھراؤ کی شروعات ہے۔

سرفراز، ترنم اور نعمان، مسلم کردار جو اس خاندان کی مدد کرتے ہیں تضادات سے بھرپور اپنی اصل شکل میں موجود ہیں: وفادار، خوفزدہ، مجبور، اور ان حالات کو قابو کرنے میں بے بس جو ان کے ارد گرد تیزی سے پیش آر ہے ہیں۔

نعمان رینہ خاندان کو بچانے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ اس کا اپنا بیٹا باہر ہجوم کا حصہ بن چکا ہوتا ہے۔ سرفراز اور ترنم اپنے پنڈت پڑوسیوں کے ساتھ جذباتی طور پر وفادار رہتے ہیں، مگر وہ خود بھی ایک دم توڑتے ہوئے نظام کے اندر محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔

جس وقت پنڈت خاندان کشمیر سے ہجرت کرکے جموں روانہ ہو جاتے ہیں، اسی رات سرینگر میں قہر برپا ہوتا ہے۔ شہر کے مرکز گاو کدل کی سڑکیں خون ناحق سے لال ہو جاتی ہیں۔

ناول کے بالکل ابتدائی صفحات میں ہی اچانک بہت سے کرداروں کو متعارف کروا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ قاری پر ایک دم ہجوم کی طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن ایک بار جب آپ ان کرداروں کو سمجھ لیتے ہیں یا ان سے مانوس ہو جاتے ہیں، تو اس کے بعد جو کچھ سامنے آتا ہے وہ واقعی سحر انگیز ہے،حقیقت پسندی میں ڈوبی ہوئی پیچیدگیوں کی تہیں!

رینہ خاندان کا تجربہ یہ واضح کرتا ہے کہ جب خوف اجتماعی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو دیرینہ اور مضبوط رشتے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں وادی کشمیر سے پنڈتوں کی ہجرت کو ہندوستان میں سیاسی طور پر بھناکر ہندو اکثریت کو مسلمانو ں کے خلاف اکسایا جاتا ہے۔ ایک ایسا بیانیہ ترتیب دیا گیا ہے،  جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ کشمیری مسلمان پنڈتوں کے مخالف تھے۔

اس حوالے سے  ایک صحافی اور سیاسی کارکن، آنجہانی پنڈت پران ناتھ جلالی کا قصہ بیان کرنا ضرور ی ہو جاتا ہے۔ وہ  اکثر یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ کس طرح سن 1947  کے غیر یقینی حالات کے دوران ایک گاؤں میں کشمیری مسلمانوں نے  پنڈت خاندانوں کی حفاظت کی تھی۔اس دور میں نوجوان جلالی کو کشمیری پنڈتوں کی بحالی کے کام میں مدد کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

ایک دن انہیں اطلاع ملی کہ تحصیل ہندواڑہ کے ایک گاؤں سے کئی پنڈت خاندان لاپتہ ہو گئے ہیں۔ وہ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے پولیس کی مدد لے کر وہاں پہنچے۔

گاؤں کے بزرگوں سے تفتیش کی گئی۔ انہیں زدوکوب کیا گیا۔ یہاں تک کہ خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اس کے باوجود، گاؤں والوں نے اصرار کیا کہ وہ کچھ نہیں جانتے۔ایک خالی پنڈت گھر کو ہی انہوں نے اپنا مستقر اور انٹروگیشن سینٹر بنایا تھا۔

 ایک رات ان کے ساتھ موجود سپاہی نے گاؤں میں کچھ نقل و حمل محسوس کی اور دیکھا کہ گاؤں کے کئی افراد خاموشی کے ساتھ جنگل کی طرف جا رہے ہیں۔جلالی اور سپاہی ان کے تعاقب میں چلے گئے، تو معلوم ہوا کہ، مسلم دیہاتیوں نے پنڈتوں کو  ندی کے پار ایک تنگ اور محفوظ کھائی میں چھپا رکھا تھا۔

ہر رات، دیہاتی ٹوکریوں میں بھر کر ان کے لیے کھانا لے جایا کرتے تھے۔انہوں نے تشدد برداشت کیا، لیکن چھپنے کی جگہ اس خوف سے ظاہر نہیں کی کہ جو لوگ وردی میں آئے ہیں، وہ کہیں محافظوں کے روپ میں حملہ آور ہی نہ ہوں۔

جلالی بتاتے تھے کہ جب انہیں احساس ہوا کہ جن لوگوں پر انہوں نے شک کیا تھا، وہ پنڈتوں کو بچانے کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا رہے تھے، تو شرم کے مارے ان کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔

یہ واقعہ فرقہ وارانہ نفرت کے جھوٹ کے بیانہ کا پردہ چاک کرتا ہے۔ 1947 کا پس منظر اس میں ایک اور گہری تہہ کا اضافہ کرتا ہے۔ صوبہ جموں میں، تقسیم ہند کے ہنگاموں کے دوران، مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا جس نے اس خطے کی آبادیاتی صورتحال (ڈیموگرافی) کو بدل کر رکھ دیا۔

اس کے باوجود، وادی کشمیر پرامن رہی۔کشمیر سماچار اخبار کے مدیران کملیش اور سیشل وکیل بتاتے تھے کہ سری نگر کے پرانے شہر میں، جہاں و ہ رہتے تھے، جب ایک پنڈت گھرانے کی لڑکی کی شادی ہو رہی تھی، تو ان کے پڑوسی مسلمان جن کے گھر کے ساتھ ان کا صحن لگا ہوا تھا،  ان کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔

جب لڑکی وداع ہوکر بارات کے ساتھ چلی گئی، تو معلوم ہوا کہ اس مسلما ن پڑوسی کی ماں صبح سویرے انتقال کر گئی تھی۔ مگر انہوں نے دن بھر اتنا ضبط کیا کہ کسی کو محسوس نہیں ہونے دیا۔  بارات کے جانے کے بعد ہی اس گھر سے رونے کی آوازیں آئی اور جنازہ نکلا۔ صرف اس لیے کہیں بارات والے رونے دھونے اور جنازہ کو منحوس سمجھ کر بعد میں لڑکی کا ناطقہ نہ بند کردیں۔

یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کی سماجی تاریخ کو ان تصاویر تک محدود نہیں کیا جا سکتا جو بعد میں پروپیگنڈے کے ذریعے تیار کی گئیں۔ وہاں بے وفائیاں قتل و غارت گری بھی ہوئی، جی ہاں۔ لیکن وہاں تحفظ، قربانی اور ایک مشترکہ زندگی بھی موجود تھی۔

کشمیری مسلمانوں کی یادداشت صرف 1989 کے بعد کے واقعات کے گرد نہیں بنی ہے۔ یہ اپنے اندر 1947، ڈوگرا راج، زمینوں سے محرومی، سیاسی دغابازی، مسلح جبر اور دہائیوں کی تذلیل کو سموئے ہوئے ہے۔ جب کسی ایک برادری کے دکھ کو کشمیر کے واحد زخم کے طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری برادری کے مقتولین کو نظرانداز اور پوشیدہ کر دیا جاتا ہے۔

خان پنڈتوں کے المیے کو سنجیدگی اور ہمدردی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ رینہ خاندان کی تکالیف انتہائی گہری، واضح اور غیر مبہم ہیں۔ ان کے گھر بار، باپ، رشتہ داروں، تحفظ اور زندگی کے تسلسل کا چھن جانا جذباتی شدت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ماں ’ایراوتی‘اس صدمے کی مجسم تصویر بن جاتی ہے؛ جو سخت دل، خاموش اور جذباتی طور پر سن 1990 میں ہی منجمد ہو کر رہ گئی ہے۔

لیکن یہ ناول ایک وسیع تر تاریخی پس منظر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ کشمیری پنڈت، اگرچہ ایک چھوٹی سی اقلیت تھے، لیکن تاریخی طور پر انہوں نے یکے بعد دیگرے آنے والے نظاموں، بشمول مغل، افغان، سکھ اور ڈوگرا راج کے تحت انتظامیہ میں بااثر عہدوں پر قبضہ جمائے رکھا۔

ان کی تعلیمی برتری اور اقتدار سے قربت نے انہیں ایک منفرد سماجی و سیاسی پہچان دی۔ پنڈتوں کے پاس اکثر کلیدی عہدے ہوتے تھے، جبکہ مسلم اکثریت بڑی حد تک کاشتکاری، دستکاری اور جبری مشقت یعنی بیگارتک محدود تھی۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر پنڈت مراعات یافتہ تھا۔ بہت سے پنڈت غریب بھی تھے۔

بہت سوں نے تکالیف بھی اٹھائیں۔ بہت سے لوگ کشمیر کی مشترکہ اور ملی جلی ثقافت میں گہرے رچے بسے تھے۔ لیکن بطور ایک برادری، اقتدار کے ساتھ ان کا رشتہ مسلم اکثریت کے رشتے سے مختلف تھا۔

ناول کی کامیابی یہ ہے کہ یہ پنڈتوں کو یکطرفہ طور پر ولن یا وہیرو بنا کر پیش نہیں کرتا۔ یہ انہیں زخمی انسانوں کے روپ میں دکھاتا ہے۔ ایراوتی کا دکھ سچا ہے، لیکن مسلمانوں کی تکالیف کو دیکھنے سے اس کا انکار بھی اتنا ہی سچا ہے۔

کبیر کا وراثت میں ملا ہوا غصہ قابلِ فہم ہے، لیکن اس کا سفر اسے اس غصے کے ادھورے پن کا سامنا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

کنول، جو شاید اس ناول کی سب سے واضح اخلاقی اور ذہین کردار ہے، خاندان کو وراثت میں ملنے والے لکیر کے فقیر تصورات کو چیلنج کرتی ہے۔ وہ اس بات سے انکار نہیں کرتی جو کچھ اس کے خاندان کے ساتھ ہوا، لیکن وہ دکھ کو تعصب بننے دینے سے انکار کر دیتی ہے۔

ایک باب کے خلاصے میں، اسے کبیر سے یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ کوئی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی کارکن نہیں ہے، بلکہ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہے جو درست ہے۔  ناول یہ تجویز کرتا ہے کہ کشمیر میں اخلاقی جرأت کا آغاز اکثر اسی وقت ہوتا ہے جب کوئی اپنے موروثی کیمپوں اور نظریاتی حصار سے باہر قدم رکھتا ہے۔

یہیں سے پنڈتوں کے انخلاء کی سیاست اس تبصرے میں داخل ہوتی ہے۔ کشمیری پنڈتوں کی تکالیف کے المیے کو بیان کرنے کے لیے جو زبان استعمال کی گئی ہے، وہ اکثر مبالغہ آمیز اور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

حالیہ برسوں میں، خاص طور پر فلموں اور ہندوستانی میڈیا میں  پنڈتوں کے حوالے سے’نسل کشی’ کی اصطلاح کو بہت لاپروائی سے استعمال کیا گیا ہے، جس کا مقصد اکثر پوری کشمیری مسلم آبادی کو ایک مٹانے والے منصوبے میں شریکِ جرم بنا کر پیش کرنا ہوتا ہے۔

کسی ایک بھی معصوم انسان کا قتل قابلِ مذمت ہے۔ مارا جانے والا ہر پنڈت ایک پوری تباہ شدہ انسانی کائنات تھا۔ لیکن حقائق کی درستگی اہمیت رکھتی ہے، خاص طور پر ایک ایسے تنازعے میں جہاں نفرت پیدا کرنے کے لیے اعداد و شمار کا استعمال کیا جاتا ہو۔

حکومتِ جموں و کشمیر کے ریکارڈ کے مطابق، 1989 اور 2004 کے درمیان 219 کشمیری پنڈت ہلاک ہوئے، یہ ایک ایسا عدد ہے جو ہندوستانی حکومتی ذرائع میں بھی بڑے پیمانے پر رپورٹ ہوا ہے۔ دیگر سماجی تنظیموں نے یہ تعداد زیادہ بتائی ہے، لیکن یہ اعداد و شمار بھی بڑے پیمانے پر قتلِ عام یا مکمل خاتمے کے دعوے کی تائید نہیں کرتے۔

جموں کے پیر پنچال اور چناب ویلی کے علاقوں میں تقریباً 1500 غیر کشمیری پنڈت ہندو بھی مارے گئے۔ پھر بھی، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارے جانے والوں کی بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔ وزارتِ داخلہ نے 44,000 ہلاکتوں کی اطلاع دی، جبکہ دیگر اندازے یہ تعداد 96,491 تک بتاتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مرنے والوں میں سے تقریباً 99 فیصد مسلمان تھے۔

ان اعداد و شمار کا وسیع تر مفہوم ناگزیر ہے؛ پنڈتوں کا المیہ سنگین تھا، لیکن یہ واحد المیہ نہیں تھا۔ اور نہ ہی یہ تعداد کے لحاظ سے کشمیر کا سب سے بڑا المیہ تھا۔ مسلم اکثریت نے ہلاکتوں، گمشدگیوں، حراستی تشدد، قتلِ عام، ایذا رسانی، نقل مکانی اور ایک عسکری رنگ میں ڈوبی ہوئی زندگی کا سب سے زیادہ اور بھاری بوجھ اٹھایا۔

یہ کہنے کا مقصد پنڈتوں کی تکلیف سے انکار کرنا نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مقصد حقیقی دکھ کو ٹھیس پہنچائے بغیر پروپیگنڈے کا پردہ چاک کرنا ہے۔

خان کا ناول بالکل اسی لیے قیمتی ہے کیونکہ یہ اس مشکل توازن کے لیے جگہ بناتا ہے۔ یہ قاری کو 1990 میں ایک پنڈت خاندان کے خوف کو محسوس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن یہ بعد میں یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس خاندان کی یادداشت ادھوری ہے۔

ناول کا دوسرا حصہ، جو دہائیوں بعد ممبئی کے پسِ منظر میں ترتیب دیا گیا ہے، یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح جلاوطنی ایک وراثت بن جاتی ہے۔ کبیر، جو اب ایک میوزک پروڈیوسر ہے، اپنے اندر ایک ایسا صدمہ لیے ہوئے ہے جو اسے صرف جزوی طور پر یاد ہے۔

اس کی بیوی، امیکا، کو بار بار حمل کے ضائع ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک ایسا ذاتی دکھ جو نسل کے منقطع ہونے کے پرانے زخم کی بازگشت محسوس ہوتا ہے۔ کنول ایک سوال اٹھانے والی، تعلیم یافتہ خاتون کے روپ میں پروان چڑھتی ہے جو اپنی ماں کی تلخی کو بنا سوچے سمجھے وراثت میں لینے سے انکار کر دیتی ہے۔

جبکہ ایراوتی وقت کو وہیں منجمد کر کے خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ایراوتی کو ڈر ہے کہ اگر کبیر کا کشمیر سے دوبارہ رشتہ جڑ گیا، تو اس کا سامنا ان سچائیوں سے بھی ہو جائے گا جنہیں برداشت کرنے کی اس میں سکت نہیں ہے۔

جب کبیر اور کنول، امیکا کے مرنے کے بعد اس کی استھیاں لے کر کشمیر لوٹتے ہیں، تو ناول موروثی یادداشت سے نکل کر جیتے جاگتے تجربے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ انہیں وہاں ٹیلی ویژن مباحثوں والا کشمیر نہیں ملتا۔ انہیں وہاں خوبصورتی، عسکریت پسندی، شک و شبہ، مہمان نوازی، دکھ اور ایک عام روزمرہ کی زندگی ملتی ہے۔ وہ بشیر سے ملتے ہیں۔ ان کا سامنا ایک نابینا لڑکے، ارمان سے ہوتا ہے۔

وہ ایسے گیت سنتے ہیں جو تاریخ کی تہوں کے نیچے کسی گہرائی سے ابھرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔گاؤ کدل میں واقع پرانا خاندانی مکان اس ناول کی سب سے طاقتور علامتوں میں سے ایک بن جاتا ہے۔ وہ غائب نہیں ہوا، بلکہ آج بھی وہیں کھڑا ہے۔ کبیر اور کنول کے لیے یہ محض ایک عمارت یا طرزِ تعمیر نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یادداشت اور حقیقت دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔

ماضی ان کے بغیر بھی مسلسل آگے بڑھتا رہا ہے۔سرفراز اور ترنم کے ساتھ دوبارہ ملاپ ناول کے سب سے زیادہ پرجوش، پُرخلوص اور تکلیف دہ لمحات میں سے ایک ہے۔

ان مسلم دوستوں نے رینہ خاندان کو بھلایا نہیں تھا، بلکہ انہیں اپنی یادوں میں سنبھال کر رکھا تھا۔ ان کے آنسو اور اپنائیت کبیر اور کنول کو ایک متبادل وراثت کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے ہیں؛ جو صرف خوف پر نہیں بلکہ محبت پر مبنی ہے؛ جو صرف دھوکے پر نہیں بلکہ تحفظ فراہم کرنے میں ایک بے بس ناکامی پر مبنی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں ‘دی ویلی آف ان فنشڈ سونگز’ سب سے کاری ضرب لگاتا ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ جلاوطن ہونے والے کا المیہ صرف گھر کا چھن جانا ہی نہیں ہے، بلکہ اس کا المیہ پیچیدگیوں کا کھو جانا بھی ہے۔ فاصلہ یادداشت کو سخت اور یکطرفہ بنا دیتا ہے، اور سیاسی بیانیے اسے مزید مسخ کر دیتے ہیں۔

پسماندگان کے پاس جو کچھ بچتا ہے، وہ اکثر صرف ایک ایسا زخم ہوتا ہے جسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ناول کا لاہور والا حصہ، جس میں دارجی، شبیر اور اجو شامل ہیں، اس کے اخلاقی جغرافیہ کو مزید وسعت دیتا ہے۔ کشمیر کا المیہ صرف وادی کے اندر مقید نہیں ہے۔ یہ سرحدوں کو پار کرتا ہوا تربیتی کیمپوں، خانقاہوں، انٹلی جنس نیٹ ورکس، خاندانی رازوں اور نظریاتی مشینوں میں داخل ہو جاتا ہے۔

 عارِض، جس کا کردار بعد میں یادداشت کی تہوں کے ذریعے سامنے آتا ہے، اس ناول کا سب سے مشکل اور گنجلک کردار بن جاتا ہے۔

آخری ابواب میں عدالت کے مناظر اس بات کو بالکل واضح کر دیتے ہیں۔ عارض یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ اسے بری کیا جائے۔ کنول کا اس کا دفاع کرنے کا فیصلہ اخلاقی طور پر پُرخطر اور ڈرامائی لحاظ سے انتہائی جاندار ہے۔ وہ اس عورت کی بیٹی ہے جسے عارض نے کبھی مارنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے باوجود، وہ اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ قانون اور سچائی کو انتقام سے بالاتر اور وسیع تر ہونا چاہیے۔

اس ناول میں موسیقی محض کوئی آرائش یا سجاوٹ نہیں ہے، بلکہ یہ یادداشت کی پوری ساخت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبیر کا بطور موسیقار پیشہ اس کہانی کا مرکزی نقطہ ہے۔ وہ محض دھنیں اور آوازیں نہیں بنا رہا، بلکہ وہ اس چیز کو سننے کی کوشش کر رہا ہے جسے تاریخ نے اپنے نیچے دفن کر دیا ہے۔

یہیں پر معاصر پنڈت سیاست پر تنقید بھی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ میڈیا، سیاست دانوں اور حکمرانوں کی طرف سے پنڈتوں کے المیے کو کشمیری مسلمانوں کے اندر ایک احساسِ جرم پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران، نئی دہلی کے مقتولین اور اربابِ اختیار نے کشمیری پنڈتوں کو ایک ‘اسٹریٹجک اثاثے یعنی سیاسی ہتھیارکے طور پر استعمال کیا ہے تاکہ ایک خالص سیاسی اور تاریخی تنازعے کو ہندو مسلم تصادم کے رنگ میں رنگا جا سکے۔

خان کا ناول یہ دکھاوا نہیں کرتا کہ پنڈت محض اس طرح واپس جا سکتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ لیکن یہ تجویز کرتا ہے کہ کسی تعلق اور رشتے کے بغیر واپسی کھوکھلی ہے۔ ایک گھر دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ ایک ٹاؤن شپ رہائشی بستی کی حفاظت کی جا سکتی ہے۔ لیکن اپنائیت اور وابستگی کو کسی انتظامی حکم نامے کے ذریعے مصنوعی طور پر تیار نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے لیے اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ بہت سے مسلمانوں نے پنڈتوں کو بچانے کی کوشش کی۔ اس کے لیے 1947 کے جموں کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ اس کے لیے مسلمان مقتولین کو گننا ضروری ہے۔ اس کے لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کس طرح ہندوستانی ریاست نے ایک برادری کے درد کو دوسری برادری کے درد سے  چھپانے کے لیے استعمال کیا۔

یہ کوئی نرم یا کمزور ناول نہیں ہے۔ یہ سطحی معنوں میں کوئی ’مفاہمت کا ادب‘نہیں ہے۔  یہ اقتدار اور طاقت کے اثر کو مٹاتا نہیں ہے۔ یہ سیاست کو محض جذباتیت میں تبدیل نہیں کرتا۔ اس کے بجائے، یہ کہتا ہے کہ انصاف کے بغیر مفاہمت جھوٹی ہے، اور یادداشت کے بغیر انصاف ادھورا ہے۔

چنانچہ،’دی ویلی آف ان فنشڈ سونگز‘کا آخری اثر تسلی یا سکون نہیں بلکہ ایک بیداری ہے۔ یہ قاری کو اس ناقابل برداشت حقیقت کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور کرتا ہے کہ کشمیر کا المیہ کوئی ایک کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ کئی زخم ہیں۔

یہ ہمیں بتاتی ہے کہ کشمیر کا علاج  پروپیگنڈے سے نہیں ہو سکتا ہے۔  اس کے شفایاب ہونے کا آغاز صرف اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہر ادھورے گیت کو سنے جانے کی اجازت دی جائے۔

اس لحاظ سے، عمیر احمد خان نے نہ صرف جلاوطنی کا ایک ناول لکھا ہے، بلکہ واپسی کا ایک ناول لکھا ہے؛ یادداشت کی طرف واپسی، پیچیدگی کی طرف واپسی، اور اپنے دکھ سے دستبردار ہوئے بغیر دوسرے کے دکھ کو دیکھنے کی اخلاقی جرأت کی طرف واپسی۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...