کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی کا راستہ اس وقت صاف ہو گیا جب گورنر تھاورچند گہلوت نے وزیر اعلیٰ سدارمیا کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ سدارمیا نے 28 مئی کو وزراء کے ساتھ ’بریک فاسٹ میٹنگ‘ میں استعفیٰ کا اعلان کیا تھا اور پھر لوک بھون پہنچ کر گورنر کے پرائیویٹ سکریٹری کو وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دینے کا خط سونپ دیا تھا۔ چونکہ گورنر تھاورچند گہلوت بنگلورو سے باہر تھے، اس لیے سدارمیا نے استعفیٰ نامہ ان کے پرائیویٹ سکریٹری کے حوالے کیا تھا۔
سدارمیا نے اپنا استعفیٰ تو دے دیا، لیکن اس بات کو لے کر چہ می گوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ گورنر یہ استعفیٰ قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ حالانکہ بنگلورو پہنچنے کے بعد انھوں نے وزیر اعلیٰ عہدہ سے سدارمیا کا استعفیٰ قبول کر لیا، اور اس کے ساتھ ہی نئی حکومت کی تشکیل کی سرگرمیاں بھی شروع ہو گئیں۔ حالانکہ گورنر نے سدارمیا سے کہا ہے کہ نئی حکومت تشکیل دیے جانے تک وہ اس عہدہ پر برقرار رہیں۔
اب سبھی کی نظریں کانگریس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ پر مرکوز ہیں، جس میں نیا لیڈر منتخب کیا جائے گا۔ یہ میٹنگ کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو کے ایک ہوٹل میں 29 مئی، یعنی آج ہی کسی وقت ہونی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ میٹنگ شام 5 بجے کے قریب ہو سکتی ہے، جس میں آگے کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔
کرناٹک میں نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق سرگرمیاں صرف ریاست میں ہی نہیں، بلکہ دہلی میں بھی شروع ہو چکی ہے۔ بنگلورو میں جہاں قانون ساز پارٹی کی میٹنگ ہونی ہے، وہیں کارگزار وزیر اعلیٰ سدارمیا اور ریاستی کانگریس صدر ڈی کے شیوکمار دہلی پہنچ چکے ہیں۔ سدارمیا تو وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد ہی جئے پور کے راستے دہلی پہنچ گئے تھے، ڈی کے شیوکمار بھی جمعہ کی صبح بنگلورو سے دہلی پہنچے۔ دونوں ہی لیڈران کی کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کے ساتھ ملاقات کا امکان ہے۔ ان دونوں لیڈران کے دہلی دورے کو نئی حکومت کی تشکیل اور کابینہ کی شکل کے لحاظ سے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ کابینہ میں شامل کیے جانے والے لیڈران کے ناموں پر مہر بھی دہلی میں سرکردہ لیڈران کی ملاقات کے دوران لگ سکتی ہے۔






































