ڈاکٹر عالمگیر ساحل پورے شد و مد کے ساتھ کوئلانچل میں کر رہے اُردو ادب کی آبیاری

AhmadJunaidJ&K News urduMay 16, 2026359 Views


بنود بہاری مہتو کوئلانچل یونیورسٹی، دھنباد کا قیام 13 نومبر 2017 کو عمل میں آیا جو اس خطے کے عوام کی دیرینہ جدوجہد کا ثمرہ ہے۔ اس یونیورسٹی کا نام جھارکھنڈ کے عظیم عوامی رہنما اور تحریکِ تعلیم کے علمبردار بنود بہاری مہتو کے نام پر رکھا گیا ہے، جن کا مشہور نعرہ ’پڑھو اور لڑو‘ آج بھی یہاں کے طلبا کے لیے مشعل راہ ہے۔ یہ یونیورسٹی بنیادی طور پر ونوبا بھاوے یونیورسٹی، ہزاری باغ سے الگ ہو کر تشکیل پائی تاکہ دھنباد اور بوکارو جیسے صنعتی اور معدنی وسائل سے مالا مال اضلاع کے طلبا کو ان کی دہلیز پر اعلیٰ تعلیم کی جدید سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ خطہ ’کوئلانچل‘ یعنی ’کوئلے کی سرزمین‘ کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں محنت کش طبقہ اور قبائلی آبادی بڑی تعداد میں بستی ہے۔ ایسے ماحول میں ایک آزاد اور مکمل یونیورسٹی کا قیام اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں کے ہونہار طلبا کو دور دراز کے بڑے شہروں میں جانے کے بجائے اپنے ہی علاقے میں بین الاقوامی معیار کی تعلیم میسر آ سکے۔

یہ یونیورسٹی محض ایک انتظامی اکائی نہیں ہے بلکہ یہ کوئلانچل کے پسماندہ اور وسائل سے محروم طبقات کے لیے سماجی و اقتصادی ترقی کا ایک روشن مینار ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ علاقہ کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی شناخت رکھتا ہے۔ یہاں اردو، ہندی، بنگالی اور مختلف مقامی زبانیں بولنے والے ایک ہی چھت کے نیچے پڑھائی کرتے ہیں۔ یونیورسٹی ان تمام لسانی اکائیوں کے درمیان ایک فکری ربط پیدا کرنے کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ بالخصوص اردو زبان و ادب کے حوالے سے یہ ادارہ ایک کلیدی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ دھنباد اور گرد و نواح میں اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی ایک بڑی علمی و ادبی تاریخ رہی ہے۔ یہاں کے تعلیمی نظام میں جدیدیت اور روایت کا حسین سنگم ملتا ہے جو طلبا کو مسابقتی امتحانات اور روزگار کے بازار میں اپنی جگہ بنانے کے قابل بناتا ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...