پیپر لیک کے الزامات کے خلاف احتجاج کر رہے طالبعلموں کی حمایت میں آئے کوچنگ سینٹر یوگی حکومت کے نشانے پر

AhmadJunaidJ&K News urduJune 10, 2026358 Views


پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے فائر سیفٹی قوانین کی پاسداری نہ کرنے کے الزام میں شہر کے تین کوچنگ اداروں کو سیل کر دیا۔ تاہم، وہاں کے اساتذہ کا خیال ہے کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تینوں کوچنگ اداروں کے مالکان کا الزام ہے کہ یہ کارروائی جان بوجھ کر لیکھ پال امتحان میں مبینہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طالبعلموں کی حمایت کے جواب میں کی گئی ۔

اگزامپور کوچنگ کے باہر لگا ایک نوٹس، جس میں بتایا گیا ہے کہ احاطہ کو سیل کر دیا گیا ہے۔ (تمام تصویریں: آکانکشا کمار/دی وائر)

پریاگ راج: اتر پردیش کے پریاگ راج شہر کے قلب میں واقع تیلیئر گنج کالونی کےچہل پہل والے بازار میں ایک تنگ اور دھول بھری سڑک پر عجیب سا سکون طاری تھا۔ بس وقفے وقفے سے تیزی سے گزرتی ہوئی دو پہیہ گاڑیوں کی آواز ہی سنائی دے رہی تھی۔

یہاں ریڈی میڈ کپڑے بیچنے والی چند دکانوں کے درمیان کمپیوٹر ٹائپنگ سکھانے والا ایک معمولی سا ادارہ بھی تھا۔ ادارے کے باہر لگے بورڈ پر لکھا تھا کہ وہاں ٹیلی کمپیوٹر لینگویج اور اے آئی  کے کورس سکھائے جاتے ہیں۔

وہیں، سیڑھیوں کے نیچے کمپیوٹر ٹائپنگ انسٹی ٹیوٹ کے اندر ومل٭ تاریخ کی کلاس لے رہے تھے۔ انہوں نے نیلے رنگ کی شرٹ پہن رکھی تھی، جس کی سامنے والی جیب پر’ اگزامپور‘لکھا تھا۔ یہ کلاس ایک گھنٹے کا آن لائن سیشن تھا، جس میں دہلی سلطنت کے آغاز کے بارے میں بتایا جانا تھا۔

ومل اپنے طلبہ کو بتا رہے تھے،’ 1707 میں اورنگ زیب کی موت کے بعد 1857 تک مغل سلطنت کی باگ ڈور انگریزوں کے ہاتھوں میں آ گئی تھی۔ اس تبدیلی کا اہم واقعہ 1858 میں الٰہ آباد کے منٹو پارک میں کیا گیا وہ مشہور اعلان تھا، جس میں ملکہ وکٹوریہ کو اقتدار سونپنے کا اعلان کیا گیا تھا۔‘

ظاہر ہے، اب الٰہ آباد کا مطلب پریاگ راج ہے، جس کا نام آدتیہ ناتھ حکومت نے 2018 میں تبدیل کیا تھا۔

ومل ایک عارضی اسٹوڈیو میں دہلی سلطنت پر کلاس لے رہے ہیں۔

اس دوران اچانک ومل نے اپنی بات کا رخ بدل لیا۔ انہوں نے جیسے خود سے ہی بات کرتے ہوئے کہا،’آج کل کچھ لوگ اساتذہ سے کہہ رہے ہیں کہ وہ صرف اپنے پڑھانے کے کام پر توجہ دیں۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر کچھ غلط ہو رہا ہے تو ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔‘

لیکچر کے اگلے حصے پر جانے سے پہلے انہوں نے مزید کہا،’یاد رکھیے کہ 1857 کی بغاوت اس لیے ناکام ہوئی تھی کیونکہ پڑھا لکھا طبقہ اس سے بے خبر تھا۔‘

ومل کے سامنے والی بنچ خالی پڑی تھی۔ یہ اس لیے تھا کیونکہ وہ ایک عارضی اسٹوڈیو سے پڑھا رہے تھے۔ ان کے زیادہ تر طلبہ دور سے ہی لیکچر میں شامل ہورہے تھے اور ایک ڈیجی کیم کے ذریعے انہیں دیکھ رہے تھے، جبکہ ان کے بالکل پیچھے لگے 75 انچ کے اسمارٹ بورڈ پر نوٹس دکھائے جا رہے تھے۔

چارجون کی شام جب یہ رپورٹر ومل سے ملیں، تو وہ کچھ دنوں کے بریک کے بعد دوبارہ پڑھانا شروع کر چکے تھے۔

گزشتہ ماہ31مئی کو شائع ہوئی دینک بھاسکر کی رپورٹ کے مطابق، پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) نے فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں تین کوچنگ اداروں کو سیل کر دیا تھا، جن میں اگزامپور کوچنگ بھی شامل تھی۔

تینوں کوچنگ اداروں کے مالکان کا الزام ہے کہ یہ کارروائی جان بوجھ کر کی گئی  تھی اور یہ لیکھ پال امتحان میں مبینہ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طالبعلموں کی حمایت کے جواب میں کی گئی۔

معلوم ہو کہ یہ امتحانات لیکھ پالوں کی بھرتی کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں، جو ریونیو ڈپارٹمنٹ میں گاؤں کی سطح کے کلرک ہوتے ہیں اور عموماً زمین کے ریکارڈ کی دیکھ بھال اور جائیداد کی منتقلی سے متعلق اندراجات کو درج کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

ایک عارضی لیکچر روم میں دی وائر نے اگزامپور کوچنگ سے وابستہ دو اساتذہ سے بات کر کے اس واقعہ پر ان کا موقف اور پیپر لیک کے خلاف احتجاج کی حمایت سے متعلق ان کی رائے جاننے کی کوشش کی۔

اگزامپور کوچنگ کے ایک عارضی اسٹوڈیو کے اندر کا منظر۔

بیچ کی تعداد 50فیصدکم ہوئی

دی وائر سے بات کرتے ہوئے ومل نے کہا،’کیمپس کو سیل کرنے کا مطلب ہے کہ ہم اپنے ریگولر اسٹوڈیو سے آن لائن لیکچر نہیں لے سکتے، اس لیے ہم دوسری جگہوں سے کلاس لے رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا،’ابھی حالات ایسے ہیں کہ جن جگہوں پر ہم عارضی اسٹوڈیو بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ منع کر رہے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ ہماری وجہ سے انہیں کسی طرح کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘

پی ڈی اے کی کارروائی کے بعد اگزامپور کوچنگ کے بیچ میں طلبہ کی تعداد تقریباً 50فیصد کم ہو گئی ہے۔ جہاں فزیکل بیچ میں پہلے تقریباً 400 طالبعلم ہوتے تھے، اب انہیں آن لائن کر دیا گیا ہے، جس سے ہر بیچ میں حاضری کم ہو کر 100–150 رہ گئی ہے۔

کوچنگ میں اسمارٹ بورڈ اور پڑھائی کے دیگر سامان موجود تھے، جس کی وجہ سے مینٹرز امتحان سے پہلے ’میراتھن ریویژن سیشن‘ کروا تے تھے۔ آن لائن موڈ میں اچانک اس تبدیلی کی وجہ سے ریگولو سیشن رک گئے ہیں۔

ہاشم پور روڈ پر سیل کیے گئے اگزامپور کوچنگ سینٹر میں 18–20 اسٹوڈیو بھی تھے—جس سے انہیں ایسی جگہ مل رہی تھی جو عارضی کلاس روم میں ملنا ناممکن ہے۔

ومل جو لیکچر دے رہے تھے، وہ ایک سیریز کا حصہ تھا، جو یو پی پولیس کانسٹبل امتحان میں شامل ہونے والے طلبہ کی مدد کرتا۔ یہ امتحان 8 سے 10 جون کے درمیان ہوا۔

اگزامپور کوچنگ کے ومل، جو ہسٹری کی کلاس لے رہے ہیں۔

اگزامپور کے ہی ایک دوسرے ٹیچر نپن٭، جو 2018 سے پڑھا رہے ہیں، نے بھی اسی طرح کی تشویش کا اظہار کیا۔

پریاگ راج کے کٹرا علاقے میں 29 مئی کو ہونے والے کینڈل لائٹ مارچ کا ذکر کرتے ہوئے نپن نے کہا،’یہ ایک علامتی مارچ تھا، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ طلبہ کے مسائل سنیں۔‘

گزشتہ21مئی کو لیکھ پال امتحان میں شامل تقریباً 5,000 طلبہ نے مبینہ پیپر لیک کے خلاف منموہن پارک چوراہے سے چندرشیکھر آزاد پارک تک مارچ کیا۔

مظاہرین کے ساتھ وہ امیدوار بھی شامل ہوئے جنہوں نے حال ہی میں 14 اور 15 مارچ کو یو پی سب انسپکٹر امتحان دیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اتر پردیش پولیس ریکروٹمنٹ اینڈ پروموشن بورڈ (یو پی پی آر پی بی) بغیر کسی تاخیر کے اسکور کارڈ جاری کرے۔

نپن نے کہا،’اب جو ہو رہا ہے، اس میں ہمارا ادارہ بند ہونے کی وجہ سے طلبہ کو باہر نکال دیا گیا ہے، جبکہ اساتذہ کو لگ رہا ہے کہ انہیں پریشان کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف آپ نوکریاں پیدا نہیں کر رہے اور دوسری طرف آپ نے 400 لوگوں کی روزی روٹی چھین لی ہے۔‘

نپن اگزامپور کوچنگ کے ان ملازمین کی بات کر رہے تھے جو ان کے مطابق اچانک بے روزگار ہو گئے ہیں۔ نپن نے مزید کہا،’ذرا دیکھیے کہ ہمیں کس طرح چھپ کر کلاس لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے؟ انہی حالات میں ہم پڑھا رہے ہیں۔‘

طالبعلموں کے ساتھ کھڑے ہونا ہماری اخلاقی ذمہ داری تھی

ہاشم پور روڈ پر جب سے اگزامپور کوچنگ بند ہوا ہے، تب سے اتر پردیش پولیس کے دو کانسٹبل اس کی سیل کی گئی جگہ کی نگرانی کر رہے ہیں۔

گیٹ کے باہر پی ڈی اے کا ایک نوٹس بورڈ لگا ہے۔ اس پر لکھا ہے؛ ’ضروری اعلان: یہ جگہ غیر مجاز ہونے کی وجہ سے سیل کر دی گئی ہے۔ سیل توڑنا، مرمت کا کام کرنا، یا اس پراپرٹی کی خرید و فروخت کا کوئی بھی لین دین غیر قانونی سمجھا جائے گا اور اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔‘

پریاگ راج میں پی ڈی اے دفتر کے باہر ہورڈنگ۔

جب میں نوٹس بورڈ کی تصویریں لے رہی تھی تو پولیس کے ایک اہلکار نے میری تصویر کھینچی۔ بعد میں انہوں نے پوچھا کہ میں کس ادارے کی نمائندگی کرتی ہوں۔ جب میں بلڈنگ کے باہر اگزامپور کوچنگ کے کچھ اسٹاف ممبران سے بات کر رہی تھی تو پولیس کا ایک تیسرا اہلکار پاس ہی کھڑا تھا۔

اگزامپور کوچنگ سے وابستہ ایک اسٹاف ممبر نے کہا، ’21 مئی کے لیکھ پال امتحان کے بعد کچھ ویڈیو وائرل ہوئے تھے جن سے پتہ چلا کہ کچھ مراکز پر کچھ امیدوار امتحان ختم ہونے کے مقررہ وقت (دوپہر 12 بجے) کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد باہر نکل رہے تھے۔ اس سے طلبہ میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔‘

قابل ذکر ہے کہ لکھنؤ، دیوریا اور مظفر نگر کے مراکز پر ایسے واقعات کو دکھانے والے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے تھے۔

تاہم، 24 مئی کو آدتیہ ناتھ حکومت نے اطلاعات و تعلقات عامہ کے محکمے کے ذریعے جاری بیان میں ان الزامات کو مسترد کر دیا۔

پریس نوٹ میں کہا گیا،’لیکھ پال امتحان پرامن اور شفاف طریقے سے منعقد کیا گیا ہے، پھر بھی کچھ لوگ غلط ارادےسے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں جو قابل اعتراض ہے۔ ایسے لوگوں کے خلاف پولیس سخت کارروائی کرے گی۔‘

اگزامپور کوچنگ کے بانی وویک کمار نے دی وائر سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا،’کچھ مراکز کے ویڈیو وائرل ہوئے تھے جن میں امتحان ہال سے باہر نکلنے والے امیدواروں نے تاخیر کی وجہ پوچھے جانے پر کوئی جواب نہیں دیا۔ اصل میں یوپی ایس ایس ایس سی کو ایسے مراکز کی جانچ کرنی چاہیے تھی اور سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرنی چاہیے تھی۔ عدم اعتماد کے اس ماحول کو ختم کرنے کے لیے کچھ کیا جانا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے اس نے ان طلبہ کے لیے ایک چنگاری کا کام کیا جنہیں لگا کہ ان کے خدشات کو نہیں سنا جا رہا۔‘

آن لائن کلاس لینے کے لیے ڈیجی کیم کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اتر پردیش سب آرڈینیٹ سروسز سلیکشن کمیشن (یو پی ایس ایس ایس سی)وہ ادارہ ہے جس نے لیکھ پال کا امتحان منعقد کیا تھا۔

وویک کمار نے رپورٹر کو بتایا،’ہم ان طلبہ کی رہنمائی میں تقریباً 15–18 گھنٹے گزارتے ہیں، اس لیے ایک جذباتی تعلق بن جاتا ہے۔ کوچنگ کلاس کے لیے پریاگ راج آنے والے زیادہ تر طلبہ معمولی پس منظر سے ہوتے ہیں، اور ہمیں لگا کہ ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔‘

کمار سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ ایک کوچنگ مالک ہونے کے ناطے وہ پیپر لیک کے مسئلے پر اتنے بولڈ کیوں رہے ہیں۔

اگزامپور کوچنگ کے گیٹ کے باہر چسپاں ایک اور ایک صفحے کے نوٹس میں پی ڈی اے نے احاطے کو سیل کرنے کی وجوہات بیان کی ہیں۔

وویک کمار کو بھیجے گئے 30 مئی 2026 کے نوٹس میں کہا گیا، ’ 250 مربع میٹر کے رقبے میں بنی عمارت — جس میں بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور دو بالائی منزلیں شامل ہیں — کے حوالے سے 11 مئی 2026 کو ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ اس میں آپ کو اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 14 اور 15 کے تحت ضوابط کی خلاف ورزی سے آگاہ کیا گیا تھا۔‘

قابل ذکر ہے کہ اس ایکٹ کی دفعہ 14 زمین کی ترقی سے متعلق قواعد کے بارے میں ہے، جبکہ دفعہ 15 مقامی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے متعلقہ وائس چیئرمین سے منظوری لینے سے متعلق ہے۔

دی وائر سے بات کرتے ہوئے کمار نے پہلے کسی نوٹس ملنے کی بات سے انکار کیا۔

کمار نے کہا،’ہمیں پہلے والے نوٹس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی۔ اس بار بھیجے گئے نوٹس میں آگ سے حفاظت اور جنریٹر سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اگر ہمیں صرف 3–4 دن بھی دیے جاتے تو ہم اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے۔ ‘

پہلے ہی نوٹس جاری کیا گیا تھا: پی ڈی اے افسر

اس معاملے پر دی وائر نے پی ڈی اے سکرٹری وینیت کمار سنگھ سے رابطہ کیا، لیکن انہوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

سول لائنز میں پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا دفتر۔

پی ڈی اے کے ایک اور افسر، جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی اور جو تینوں کوچنگ اداروں کو نوٹس جاری کرنے کے عمل سے منسلک تھے، نے رپورٹر کو بتایا،’کچھ تعمیراتی کاموں کے لیے آگ سے متعلق این او سی کی ضرورت ہوتی ہے، اور یوپی اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ 1973 کی دفعہ 15(1) کے تحت کمپلیشن سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔ اس سلسلے میں وقتاً فوقتاً نوٹس جاری کیے گئے تھے۔‘

افسر کے مطابق، اگزامپور کوچنگ کو جاری کیا گیا تازہ ترین نوٹس 27 نومبر 2025 کا تھا۔

افسر نے کہا،’ہم طے شدہ طریقہ کار پر عمل کر رہے ہیں۔ رہائشی علاقے کے 500 میٹر کے دائرے میں کسی بھی تعمیر کے لیے کچھ قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔‘

ان سے پوچھا گیا تھاکہ کیا احاطے کو سیل کرنے کا فیصلہ کوچنگ اداروں کی جانب سے طلبہ کے احتجاج کی حمایت سے متعلق تھا۔

اس حوالے سے الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر وکیل کمل کرشن رائے نے کہا،’قانون کے مطابق اگر کوئی تعمیر سرکاری زمین، نالے یا سڑک یا گلی پر قبضہ کر کے نہیں کی گئی ہے تو مالک کو عموماً طے شدہ معاوضے اور جرمانے (اگر کوئی ہو) کے ساتھ ایک نظرثانی شدہ نقشہ جمع کرانا ہوتا ہے۔ مسماری کی کارروائی آخری راستہ ہوتی ہے۔ ‘

رائے، جو انسانی حقوق کے کارکن بھی ہیں، 2022 میں پریاگ راج میں پی ڈی اے کی جانب سے’ویلفیئر پارٹی آف انڈیا‘کے رہنما جاوید محمد کے گھر کو منہدم کیے جانے کے بعد نمایاں آوازوں میں سے ایک تھے۔ یہ مسماری اس وقت ہوئی جب جاوید نے اس وقت کی بی جے پی ترجمان نوپور شرما کی جانب سے پیغمبر محمد پر دیے گئے بیان کے خلاف احتجاج کی اپیل کی تھی۔

اس دوران نیوز کلک نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ جاوید محمد کی نمائندگی کرنے والے رائے نے الزام لگایا تھا کہ اتر پردیش پولیس کی جانب سے ایف آئی آر میں جاوید کو کلیدی ملزم قرار دیے جانے کے بعد پی ڈی اے نے بیک ڈیٹ میں توڑ پھوڑ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

’ہم نے 1 روپے میں بیچ شروع کیے ہیں، آپ مجھے ایجوکیشن مافیا کہہ سکتے ہیں ‘

لیکھ پال امتحان میں مبینہ پیپر لیک کے حوالے سے طلبہ کے احتجاج کے ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں، پریاگ راج کے سرکٹ ہاؤس میں عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ کی ایک عوامی میٹنگ میں رکاوٹ ڈالی گئی اور احتجاج کی قیادت کرنے والے دو اسٹوڈنٹ لیڈر- پنکج پانڈے اور آشو توش پانڈے- کو اتر پردیش پولیس نے گرفتار کر لیا۔

واضح ہو کہ1جون کو احتجاج کرنے والے طلبہ نے ایک اورکینڈل  لائٹ مارچ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ لیکن طلبہ رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد جب یہ رپورٹر اسی شام پریاگ راج کے گووند پور علاقے میں طے شدہ مقام پر پہنچیں تو وہاں طلبہ مظاہرین موجود نہیں تھے اور جگہ خالی پڑی تھی۔

وہیں، اب 12 جون کو لکھنؤ میں پیپر لیک کے مسئلے پر ایک بڑے احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے۔

پیپر لیک کے معاملے پر طلبہ کے ساتھ سنجے سنگھ کی بات چیت کے دوران موجود وکیل رائے نے پہلے دی وائر کو بتایا تھا،’ہم حکام اور حکومت سے پیپر لیک روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن حکومت ہم سے کہہ رہی تھی کہ ہم اس معاملے پر بات کرنا ہی بند کر دیں۔ جس ہال میں میٹنگ ہو رہی تھی، وہاں حکام کے کہنے پر اچانک لائٹس اور اے سی بند کر دیے گئے۔‘

پانچ جون 2026 کے ایک خط، جس کی ایک کاپی دی وائر نے دیکھی ہے، میں عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے ریاستی راجیہ سبھا چیئرمین سے پریاگ راج کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (سٹی) ستیہ مشرا کے خلاف کارروائی کی درخواست کی ہے۔

سنگھ نے الزام لگایا کہ جب ایک رکن پارلیامان پیپر لیک اور امتحان منسوخ ہونے کے الزامات کے حوالے سے طلبہ کی شکایات سن رہے تھے، تو اس افسر نے ان کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب، ایک عارضی اسٹوڈیو میں ومل اور نپن آنے والے مشکل وقت کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔ اپنے کوچنگ ادارے کی اے سی سہولت سے دور یہ دونوں 40 ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت میں پنکھے کے نیچے لیکچر لینے کے عادی ہو رہے ہیں۔ اگر آنے والے دنوں میں طلبہ کی تحریک جاری رہتی ہے تو وہ اسے اپنی حمایت جاری رکھنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

کوچنگ اداروں میں آنے والے طلبہ کی مدد کے لیے شروع کی گئی پہلوں پر بات کرتے ہوئے نپن نے کہا،’ہم نے طلبہ کے لیے 1 روپے، 11 روپے اور 99 روپے والے بیچ شروع کیے ہیں۔ آپ مجھے’ایجوکیشن مافیا ‘کہہ سکتے ہیں۔‘

اگزامپور کوچنگ کی سستی آن لائن کلاس میں اکثر ایک ہی آن لائن سیشن میں 1 لاکھ تک طلبہ شامل ہوتے ہیں۔ ومل نے مزید کہا،’پھر بھی ایسے طلبہ بھی آتے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ 99 روپے بھی ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔‘

نپن نے کہا،’اگر امتحانات ہی منصفانہ طریقے سے نہیں ہو سکتے تو پڑھانے کا کیا فائدہ ہے؟‘

اپنے وہاٹس ایپ نمبر پر مقابلہ جاتی امتحانات کے امیدواروں کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات دیکھتے ہوئے نپن ایک ایسے پیغام پر رکے جس نے انہیں بے حد پریشان کر دیا۔

نپن نے مزید کہا’ذرا سوچیے، ایک طالبعلم جو امتحان دینے گیا ہے، اور یہ اس کا آخری موقع ہے (عمر کی حد کے مطابق)، اور اگر اسی کا پرچہ لیک ہو جائے تو اس کی پوری زندگی برباد ہو جائے گی۔‘

اس کے بعد انہوں نے اپنے موبائل فون پر رپورٹر کو ایک طالبعلم کا پیغام دکھایا، جس نے انہیں فوراً اپنے وکیل سے رابطہ کرنے پر مجبور کر دیا۔

حال ہی میں ایس ایس سی جی ڈی امتحان میں مبینہ پیپر لیک کے الزامات کے بعد پریاگ راج کے ایک امتحان کے مرکز میں توڑ پھوڑ کے ویڈیو کے نیچے، طالبعلم نے نپن کو پیغام بھیجا تھا،’پریاگ راج کا ایونٹ۔ اس کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ خودکشی کر لینی چاہیے؟‘

دی وائر نے دو دیگر کوچنگ اداروں کے مالکان- معروف احمد (سوپر کلائمیکس کوچنگ) اور روی تیواری (ٹارگٹ ون کوچنگ)۔ سے رابطہ کیا تھا۔ تاہم انہوں نے ابتدا میں بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی، لیکن بعد میں جب رپورٹر نے دوبارہ رابطہ کیا تو ان کے فون نمبر بند تھے۔

٭پہچان چھپانے کے لیے کچھ نام تبدیل کیے گئے ہیں۔

(اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں- دوست یا رشتہ دار- جو ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور خودکشی کا جوکھم ہے، تو براہ کرم ان سے رابطہ کریں۔ سوسائیڈ پریوینشن انڈیا فاؤنڈیشن کے پاس ان فون نمبروں کی فہرست  ہے جن پر کال کر کے وہ رازداری کے ساتھ بات کر سکتے ہیں۔ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے تحت چلنے والی کونسلنگ سروس’آئی کال‘نے ملک بھر کے ماہرین نفسیات/تھراپسٹ کی ایک کراؤڈ سورسڈ فہرست تیار کی ہے۔ آپ انہیں قریبی اسپتال بھی لے جا سکتے ہیں۔)

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...