
کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھڑگے۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک)
نئی دہلی:کرناٹک کے وزیر داخلہ اور کانگریس رہنما پریانک کھڑگے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) چیف موہن بھاگوت کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک آئینی جمہوریت میں کوئی بھی تنظیم، چاہے وہ کتنی ہی پرانی، بڑی یا بااثر کیوں نہ ہو، جانچ پڑتال سے اوپر نہیں ہو سکتی۔
کھڑگے نے تنظیم سے اس کی قانونی حیثیت اور تنظیمی ڈھانچے سے متعلق معلومات، ٹیکس ادائیگی کی صورتحال، اور چندے، عطیات اور آمدنی کے ذرائع کی تفصیلات سب کے سامنے لانے کی اپیل کی ہے۔
کھڑگے نے سوموار (15 جون) کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر 13 جون کو بھاگوت کو لکھا گیا خط شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی صد سالہ تقریبات کے موقع پر آر ایس ایس کو ذمہ داری کے ساتھ آئین کی پاسداری کرنی چاہیےاور رجسٹریشن کرانا چاہیے، مطلوبہ معلومات عام کرنی چاہیے، واجب الادا ٹیکس ادا کرنا چاہیے اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے شفافیت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
Dear Shri Mohan Bhagwat ji,
My letter will reach you shortly. However, I thought it was important to draw your attention to this matter early.
——————————-Firstly, congratulations to the RSS on completing 100 years.
An organisation that claims over 60,000 shakhas and crores of… pic.twitter.com/IZy4oeKdMp
— Priyank Kharge / ಪ್ರಿಯಾಂಕ್ ಖರ್ಗೆ (@PriyankKharge) June 15, 2026
خط میں کھڑگے نے آر ایس ایس کو اس کے 100 سال پورے ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور بیرون ملک 60,000 سے زائد شاکھاؤں اور کروڑوں سویم سیوکوں کا دعویٰ کرنے والی یہ تنظیم یقینی طورپرعوامی زندگی اور معاشرے میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
کھڑگےنے مزید کہا،’اسی وسعت، اثر و رسوخ اور رسائی کے سبب آر ایس ایس کو شفافیت، جوابدہی اور آئینی تقاضوں کی پاسداری کے اعلیٰ ترین معیارات پر کھرا اترنا چاہیے۔‘
کھڑگے نے مزید لکھا کہ آر ایس ایس کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز تنظیم اکھل بھارتیہ پرتیندھی سبھا(اے بی پی ایس) کی جانب سے جاری کی گئی 2025-26 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، کرناٹک میں تنظیم کی نمایاں موجودگی ہے، جہاں 4,127 روزانہ شاکھائیں، 1,389 ہفتہ وار اجلاس اور 60 ماہانہ اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔
خط میں انہوں نے لکھا،’آر ایس ایس کی عوامی رابطہ مہم اور عوامی تنظیم سازی کی صلاحیت بھی اتنی ہی وسیع ہے۔ آپ کی رپورٹ کے مطابق تنظیم نے 2,194 سماجی تقریبات منعقد کیں جن میں 19,61,158 افراد نے شرکت کی۔ آپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ریاست بھر میں 562 پریڈ کا انعقاد کیا گیا، جن کی لمبائی عموماً 2.5 سے 3 کلومیٹر تھی اور ان میں 2,21,963 وردی پوش شرکاء شامل تھے۔ ان اعداد و شمار کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کرناٹک میں ایک بہت بڑا، منظم اور گہرائی تک پھیلا ہوا نیٹ ورک کام کر رہاہے، جو روزانہ کیڈر سازی، ہفتہ وار اور ماہانہ عوامی رابطہ پروگراموں، بڑے عوامی اجتماعات اور وردی پوش پریڈ کے ذریعے کام کر رہا ہے۔‘
کھڑگے نے کہا کہ اتنی بڑی موجودگی، خصوصی طور پر جب اس میں باقاعدہ عوامی صف بندی، وردی پوش پریڈ اور بڑے پیمانے پر سماجی رابطہ پروگرام شامل ہوں، تو اسے کسی نجی یا غیر رسمی ڈھانچہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا،’اس سے تنظیم کی قانونی حیثیت، جوابدہی، مالی شفافیت، امن و امان، اجازت ناموں، فنڈنگ کے ذرائع، ہندوستان کے آئین اور قوانین کی پابندی سے متعلق جائز سوال پیدا ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا،’لہٰذا ہم آر ایس ایس سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے مجاز عہدیداروں کو بھیج کر یہ واضح کرے کہ اتنی بڑی تنظیم کس قانونی بنیاد پر اپنی شناخت کو باضابطہ طور پر درج کرائے بغیر، اور کسی قانونی ادارے یا قوانین کے تحت ’اشخاص کے مجموعہ‘کے طور پر رجسٹر ہوئے بغیر، مسلسل کام کرتی رہی ہے۔‘
کھڑگے نے کہا کہ ہر مذہبی ادارے اور مذہبی ٹرسٹ کا آڈٹ کیا جاتا ہے، اور خیراتی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں (این جی او)، ٹرسٹوں، سوسائٹیوں، کمپنیوں اور دیگر اداروں کے لیے اپنی ساخت، سرگرمیوں، مالی حیثیت اور آمدنی کے ذرائع ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے۔
کھڑگے نے اپنے خط میں کہا کہ یہ مناسب اور ضروری ہے کہ آر ایس ایس عوامی طور پر درج ذیل معلومات فراہم کرے؛ اس کی قانونی حیثیت اور تنظیمی ڈھانچہ، عہدیداروں اور مجاز نمائندوں کی تفصیلات، عطیات، چندوں اور آمدنی کے ذرائع، اخراجات اور اثاثوں کی تفصیلات، کیا قانون کے مطابق واجب الادا ٹیکس ادا کیے جا رہے ہیں، باضابطہ رجسٹریشن کے بغیر تنظیم کی سرگرمیاں کس قانونی بنیاد پر چلائی جا رہی ہیں، وہ کون سا آئینی اور قانونی فریم ورک ہے جس کے تحت وہ عوامی جوابدہی کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر کام کرنے کا حق ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، اور عوامی تقریبات، پریڈوں، بڑے اجتماعات اور دیگر منظم سرگرمیوں کے لیے منظوری، اختیار اور تعمیل کی تفصیلات۔
کھڑگے نے بھاگوت کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا، ’جو تنظیم مسلسل قوم پرستی، نظم و ضبط اور فرض شناسی کی بات کرتی ہے، اسے شفافیت، قوانین کی پابندی اور ہندوستان کے آئین کے احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود بھی ان اقدار کو اپنانا چاہیے۔ آر ایس ایس عام ہندوستانیوں سے قوانین کی پابندی کا مطالبہ تو کر سکتی ہے، لیکن خود انہی قوانین سے استثنیٰ حاصل نہیں کر سکتی۔ اگر کارکنوں، چھوٹی تنظیموں، مذہبی اداروں، این جی اوز، ٹرسٹوں، کمپنیوں اور شہریوں سے رجسٹریشن، معلومات کی فراہمی، آڈٹ اور ٹیکس ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے، تو آر ایس ایس کو بھی ملک کے قوانین پر عمل کرتے ہوئے ایک مثال قائم کرنی چاہیے۔ ‘
حالیہ دنوں میں کھڑگے مسلسل آر ایس ایس پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ آر ایس ایس کو برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا نظریاتی سرچشمہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے چیف موہن بھاگوت پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ تنظیم کو باضابطہ رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے۔
اس سے قبل 10 جون کو کھڑگے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو چیلنج کرتے ہوئے پوچھاتھا کہ وہ بتائے کہ کن قوانین کے تحت تنظیم کو حکومت کے سامنے جوابدہ ہونے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا تھا کہ جس ملک میں ہر فٹ پاتھ پر ٹھیلہ -پھیری لگانے والے کو رجسٹریشن کروانا پڑتا ہے، وہاں آر ایس ایس جیسی تنظیم قانون سے اوپر کیسے ہو سکتی ہے۔





