
قابل ذکر ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے میں آبنائے ہرمز پر توجہ مرکوز ہے۔ امریکہ کے نائب صدر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ جے ڈی وینس کے مطابق معاہدہ پر دستخط ہونے کے فوراً بعد ایران نے ہرمز کو کھولنے کی بات کہی ہے۔ وینس کا کہنا ہے کہ ایران اس روٹ سے آمد و رفت کے لیے کوئی پیسہ نہیں لے گا۔ دوسری جانب ایران کی کوشش اس روٹ سے ماحولیاتی ٹیکس وصول کرنے کی ہے۔ اس کے لیے ایران اپنے پڑوسی ملک عمان کے ساتھ مل کر ایک تجویز تیار کر رہا ہے۔





