مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان پاکستانی فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک وفد کے ساتھ تہران پہنچ گئے تاکہ ایران کو امریکہ کا پیغام پہنچا سکیں۔ وفد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کا منصوبہ بھی بنا سکتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ تہران جلد ہی اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق بقائی نے بتایا کہ ہفتہ (11 اپریل) کو اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد اتوار (12 اپریل) کو ایرانی وفد کے تہران واپس آنے کے بعد سے پاکستان کے ساتھ متعدد پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکہ کے بعض مطالبات بے بنیاد اور غیر معقول تھے تاہم انہوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل (14 اپریل 2026) کو نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے یہ اشارہ بھی دیا کہ تہران کے ساتھ امن مذاکرات کا دوسرا دور رواں ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔ یہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ امریکہ کی طرف سے یہ کارروائی ایران کی سمندری تجارت میں خلل ڈالنے کے مقصد سے عمل میں لائی گئی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ نہیں مانتے کہ جنگ بندی میں توسیع کی کوئی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، “آپ آگے دو شاندار دن دیکھنے جا رہے ہیں۔ نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ معاہدہ کرنا بہتر ہوگا کیونکہ تب وہ اپنے ملک کی تعمیر نو کر سکیں گے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب وہاں واقعی ایک مختلف قسم کی حکومت ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، پاکستان کے فوجی سربراہ عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کے بعد ایرانی حکومت پہلے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کا جائزہ لے گی اور پھر فیصلہ کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق لبنان میں جنگ بندی ایران کے فیصلے کے لیے ایک مثبت اشارہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ کو مذاکرات کے لیے منطقی ڈھانچہ اپنانا چاہیے اور ضرورت سے زیادہ مطالبات کر کے یا جنگ بندی سے پہلے طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزی کر کے اس عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہیے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































