پائیدار ترقی اہداف نوجوانوں پر منحصر

AhmadJunaidJ&K News urduApril 26, 2026358 Views


پائیدار ترقی کے عالمی اہداف کی تکمیل کے لیے طے شدہ 2030 کی ڈیڈ لائن اب سر پر ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری اس وقت ایک کٹھن موڑ پر کھڑی ہے۔ جغرافیائی سیاسی تنازعات، موسمیاتی تباہی اور ترقیاتی مالیاتی وسائل کی تیزی سے گرتی ہوئی سطح نے اس سفر کو نہ صرف سست کر دیا ہے بلکہ کئی شعبوں میں اب تک حاصل کردہ کامیابیاں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہا ہے، پائیدار ترقی کے خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے محض بیانات نہیں، بلکہ انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔

مالیاتی دلدل سے نکلنا دشوار

ترقی پذیر ممالک اس وقت ایک ایسی مالیاتی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں جہاں سے نکلنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ ایک چوتھائی ترقی پذیر ممالک میں فی کس آمدنی اب بھی عالمی وبا سے پہلے (2019) کی سطح سے بھی کم ہے، جو کہ معاشی پسماندگی کی ایک خطرناک علامت ہے۔ اس سے بھی زیادہ ہولناک حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے 3.4 ارب لوگ ایسے ممالک میں آباد ہیں جہاں حکومتیں اپنے شہریوں کی تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے بجٹ کا بڑا حصہ ‘قرضوں کے سود’ کی ادائیگی پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ جب ریاستیں اپنے مستقبل یعنی انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنے کے بجائے ماضی کے قرضوں کا بوجھ ڈھونے لگیں، تو یہ ترجیحات مستقبل کی نسلوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...