
تحقیقات سے اشارہ ملا ہے کہ یہ معاملہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم گروہ کے ذریعے انجام دیا گیا ہو سکتا ہے۔ اس دوران دہرادون پولیس نے کیمرے پر بیان دینے سے انکار کیا، تاہم اتنا ضرور کہا کہ راجستھان پولیس نے ان سے رابطہ کیا تھا اور ایک ملزم کو اپنے ساتھ لے گئی۔ مرکزی ایجنسیوں کی جانب سے بھی اس معاملے کی جانچ کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔






