’10 سال میں 89 پیپر لیک، 48 بار دوبارہ امتحان‘، نیٹ امتحان رد ہونے پر کانگریس لیڈر رنجیت رنجن اور طارق انور کا ردعمل

AhmadJunaidJ&K News urduMay 12, 2026361 Views


طارق انور نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’نیٹ کے امیدواروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ناقابل قبول ہے۔ لاکھوں خاندانوں نے اپنے بچوں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے قرض لیا، زیورات بیچے اور دن و رات محنت کی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>رنجیت رنجن / ویڈیو گریب</p></div><div class="paragraphs"><p>رنجیت رنجن / ویڈیو گریب</p></div>

i

user

google_preferred_badge

’نیٹ یو جی‘ پیپر لیک کے بعد امتحان کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر کانگریس کی راجیہ سبھا رکن رنجیت رنجن کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ رنجیت رنجن اپنی ’ایکس‘ پوسٹ پر لکھتی ہیں کہ ’’22 لاکھ سے زائد بچے سال بھر دن و رات پڑھتے ہیں، لیکن ایک پیپر لیک ان کی محنت پر پانی پھیر دیتا ہے۔‘‘

کانگریس راجیہ سبھا رکن رنجیت رنجن اپنی پوسٹ میں مزید لکھتی ہیں کہ ’’یہ پہلی بار نہیں ہے، گزشتہ 10 سال میں 89 پیپر لیک کا معاملہ سامنے آیا اور 48 بار دوبارہ امتحان ہوا۔‘‘ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ’’آخر کب تک حکومت تحقیقات کے نام پر صرف خانہ پوری کرتی رہے گی؟ ہر بار وہی وعدے اور پھر وہی خاموشی۔‘‘

رنجیت رنجن کے علاوہ بہار کے کٹیہار سے کانگریس رکن پارلیمنٹ طارق انور کا بھی ’نیٹ یو جی‘ امتحان منسوخ ہونے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’نیٹ کے امیدواروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ناقابل قبول ہے۔ لاکھوں خاندانوں نے اپنے بچوں کے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے قرض لیا، زیورات بیچے اور دن و رات محنت کی۔ اگر نظام تعلیم میں پیپر لیک اور بدعنوانی حاوی رہیں گے تو پھر قابلیت کی کیا قیمت رہ جائے گی۔‘‘

بہار کانگریس کے لیڈر مدن موہن جھا کا کہنا ہے کہ ’’نیٹ پیپر پھر لیک ہو گیا… طلبہ دن رات محنت کریں اور حکومت امتحان تک محفوظ نہ رکھ پائے، تو اسے انتظامیہ کی ناکامی نہیں تو اور کیا کہیں گے؟ این ڈی اے کی حکومت میں نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگایا جا رہا ہے۔‘‘ مدن موہن جھا کے علاوہ بہار کانگریس کے صدر راجیش رام نے کہا کہ ’’22 لاکھ طلبہ کی محنت اور ان کے گارجین کے خوابوں پر مودی حکومت نے پانی پھیر دیا۔ نیٹ پیپر لیک نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں اب امتحان نہیں بلکہ پیپر کی نیلامی چل رہی ہے۔ نوجوان پڑھائی کرے یا مافیاؤں سے لڑے؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت میں محنت ہار رہی ہے، بدعنوانی کی جیت ہو رہی ہے اور چوروں کو نوازا جا رہا ہے۔ ہندوستان کے نوجوانوں کا مستقبل برباد کرنے والوں کو ملک کبھی معاف نہیں کرے گا۔‘‘


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...