
جھارکھنڈ کے گوڈا قصبے کے رہنے والے محمد فیضان اللہ نے ثابت کر دیا کہ جسمانی کمزوری انسان کے ارادوں کو شکست نہیں دے سکتی۔ سیریبرل پالسی جیسی بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود انہوں نے دسویں بورڈ امتحان میں 93 فیصد نمبر حاصل کر کے معذور زمرے میں ٹاپ کیا اور اپنی غیر معمولی محنت سے ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید اور حوصلہ کی نئی مثال قائم کر دی۔
بی بی سی ہندی کی رپورٹ کے مطابق، محمد فیضان اللہ بچپن سے ہی سیریبرل پالسی بیماری کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ اور پیر عام بچوں کی طرح کام نہیں کرتے۔ وہ نہ خود سے چل سکتے ہیں اور نہ ہی آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں لیکن اس جسمانی رکاوٹ نے ان کے حوصلے کو کبھی کمزور نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے منہ میں قلم دبا کر لکھنے کی مشق کی اور آج وہ اپنی محنت کے بل پر کامیابی کی ایسی منزل تک پہنچ چکے ہیں جسے دیکھ کر ہر شخص متاثر ہو رہا ہے۔





