
مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کا پہلے مرحلے کے ساتھ آغاز غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ ہوا، جہاں 152 نشستوں پر تقریباً 90 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ یہ شرح 2021 کے انتخابات میں ہونے والے 82 فیصد ٹرن آؤٹ سے بھی زیادہ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کے ووٹرز سیاسی عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ شمالی بنگال کی پہاڑی وادیوں سے لے کر جنوبی علاقوں کے گرم میدانوں تک، ووٹنگ کا یہ مرحلہ ریاست کی جغرافیائی اور سیاسی تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔
برسرِ اقتدار ترنمول کانگریس، جس کی قیادت ممتا بنرجی کر رہی ہیں، مسلسل چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔ پارٹی اپنی مضبوط زمینی تنظیم، خواتین کے لیے شروع کی گئی اسکیموں جیسے ’لکشمیر بھنڈار‘ اور مرکزی حکومت کی نظراندازی کے بیانیے پر انحصار کر رہی ہے۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی 2021 میں حاصل کی گئی 77 نشستوں کی بنیاد پر اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کی کوشش میں ہے۔ بی جے پی اپنی مہم میں حکومت مخالف لہر، انتخابی تشدد کے بیانیے اور سرحدی اضلاع میں ہندوتوا کی سیاست کو استعمال کر رہی ہے۔ بائیں بازو اور کانگریس کا اتحاد اگرچہ کمزور ہو چکا ہے لیکن کچھ علاقوں خصوصاً مسلم اکثریتی خطوں اور دیہی علاقوں میں مقابلے کو سہ رخی بنا رہا ہے۔





