
اطلاعات کے مطابق، یہ معاملہ 65 ایسے افسران سے متعلق ہے جو انتخابی ڈیوٹی میں دن رات مصروف رہے۔ ان افسران نے عدالت میں دائر اپنی عرضی میں کہا کہ جب ووٹنگ کا وقت آیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے نام ووٹر فہرست میں موجود ہی نہیں ہیں۔ یہ صورتحال ان کے لیے حیران کن تھی کیونکہ وہ خود انتخابی عمل کا حصہ تھے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے تھے۔
درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ایم آر شمشاد نے عدالت کو بتایا کہ ان تمام افسران کے ڈیوٹی آرڈر پر ان کے ووٹر شناختی نمبر درج ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ انہیں ووٹر مانتی ہے اور اسی بنیاد پر انہیں انتخابی ڈیوٹی پر تعینات کرتی ہے، تو پھر ان کے نام ووٹر فہرست سے ہٹانا نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔





