مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کے بیٹے کے خلاف پاکسو کیس: تلنگانہ میں سیاسی زلزلہ

AhmadJunaidJ&K News urduMay 13, 2026359 Views


بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کے بیٹے سائی بھاگیرتھ کے خلاف ایک 17 سالہ لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال کے الزام میں پاکسوقانون کےتحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وزیرنے الزامات کو سیاسی مخالفین کی ’سازش‘قرار دیا ہے۔ تین سال قبل بھی بھاگیرتھ پر مہندرا یونیورسٹی کیمپس میں اپنے ایک بیچ میٹ کے ساتھ مارپیٹ کرنے کا الزام لگا تھا، جس کے پس پردہ دوست سے وابستہ خاتون کا پیچھا کرنا بتایا گیا تھا۔

سائی بھاگیرتھ (بائیں)، ان کے والد مرکزی وزیر مملکت داخلہ بنڈی سنجے کمار، اور تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی (دائیں)۔ (تصویریں: ایکس، پی ٹی آئی)

حیدرآباد: اتوار (10 مئی) کو جب وزیر اعظم نریندر مودی حیدرآباد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کارکنان کے ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے، اسی وقت پارٹی دو دن پہلے درج کیے گئے بنڈی سائی بھاگیرتھ کے خلاف پاکسو ایکٹ 2012 کے تحت درج مقدمے سے ہلی ہوئی تھی۔ بھاگیرتھ مرکزی وزیر مملکت داخلہ بنڈی سنجے کمار کے بیٹے ہیں۔

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) سی وی آنند کو طلب کیا، تاکہ تفتیش کی براہ راست جانکاری حاصل کی جا سکے۔ ریڈی کی ہدایت پر ڈی جی پی نے آئی پی ایس افسر ریتی راج کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی۔ ریتی راج کوکٹ پلی کے پولیس ڈپٹی کمشنر(ڈی سی پی)  ہیں۔

ایس آئی ٹی کو 8 مئی کو ایک 17 سالہ لڑکی کی ماں کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت کی تحقیقات  کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ گزشتہ سال 31 دسمبر کو حیدرآباد کے مضافات میں معین آباد کے ایک فارم ہاؤس میں بھاگیرتھ نے ان کی بیٹی کا جنسی استحصال کیا۔ دوسری جانب بھاگیرتھ نے بھی لڑکی اور اس کے خاندان کے خلاف جوابی شکایت درج کرائی ہے۔

تفصیلات

شکایت کنندہ خاتون کا کہنا ہے ان کی بیٹی کے انکار کے باوجود اسے شراب پینے پر مجبور کیا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ بھاگیرتھ لڑکی کے کمرے میں داخل ہوا اور اس کے ساتھ نازیبا حرکت کی۔ مزید یہ کہ اسے پانچ دیگر لڑکوں اور دو لڑکیوں کے ساتھ رات بھر فارم ہاؤس میں رہنے پر مجبور کیا گیا۔ خاتون نے اپنی شکایت میں کہا کہ چھ ماہ قبل آپسی  جان پہچان کے ذریعے ان کی بیٹی کو بھاگیرتھ کے ساتھ ’رشتے‘میں آنے کے لیے منایا گیا تھا۔

شکایت کے مطابق، بھاگیرتھ نے لڑکی کو یقین دلایا تھا کہ جب وہ 18 سال کی ہو جائے گی تو وہ اس سے شادی کرے گا۔ شکایت میں کہا گیا کہ فارم ہاؤس والے واقعے سے پہلے وہ مبینہ طور پر لڑکی کو مختلف نجی مقامات پر بھی لے جاتا رہا، جن میں رہائشی علاقے بھی شامل تھے، جہاں اس نے لڑکی کا ’جنسی اور جسمانی استحصال‘کیا۔

مزید کہا گیا کہ ایک ہفتے بعد بھاگیرتھ نے اچانک تعلق ختم کر دیا اور کسی بھی ذمہ داری سے انکار کر دیا۔ شکایت میں کہا گیا، ’مسلسل استحصال اور چھوڑ دیے جانے کے باعث لڑکی شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوئی اور اس نے 19 اور 26 جنوری کو خودکشی کی کوشش کی۔‘

لڑکی کا خاندان حیدرآباد کے کومپلی علاقے میں رہتا ہے، جو پیٹ بشیر آباد تھانہ حلقہ میں آتا ہے۔ ماں نے پولیس کو لکھے گئے خط میں کہا کہ، ’جب انہوں نے مارچ میں قانونی کارروائی شروع کرنے کی کوشش کی تو انہیں کیس واپس لینے کے لیے فون کال آنے لگے اور بالواسطہ دباؤ ڈالا جانے لگا۔‘

اسی دن (8 مئی) بھاگیرتھ نے کریم نگر کے ٹو ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں ایک شکایت درج کرائی، جس میں کہا گیا کہ لڑکی اور اس کے والدین کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات تھے اور وہ مختلف مذہبی مقامات جیسے وجئے واڑہ مندر، اروناچلم مندر اور تروملا مندر بھی گئے تھے۔‘

بھاگیرتھ کی شکایت میں کہا گیا ، ’کچھ وقت بعد ان کے رویے میں تبدیلی آئی اور لڑکی کے والدین  مجھے فون کرکے بیٹی سے شادی کے لیے دباؤ ڈالنے لگے اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ جب میں نے انکار کیا، تو انہوں نے میرے خلاف جھوٹے معاملے درج  کرنے کی دھمکی دی، جن میں استحصال اور جسمانی تعلقات کے الزامات شامل تھے ۔ انہوں نے مجھ سے پیسے کابھی مطالبہ کیا۔ خوف کے باعث میں نے اس کے والد کو 50 ہزار روپے دیے اور مجھے اکیلا چھوڑ دینے کی گزارش کی ۔‘

بھاگیرتھ کی شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے ،’اس کے بعد لڑکی کے والدین مسلسل مجھے ذہنی طور پر ہراساں کر رہے ہیں اور مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہیں،یہ  کہہ کر کہ اگر میں نے انہیں 5 کروڑ روپے نہیں دیے تو لڑکی کی ماں خودکشی کر لے گی۔‘

بھاگیرتھ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لڑکی کے خاندان اور اس کے دوستوں کے درمیان پہلے سے کوئی جھگڑا چل رہا تھا، جس کے باعث اپریل میں نرمل پولیس اسٹیشن میں ایک معاملہ  درج کیا گیا تھا۔ تاہم، لڑکی کے خاندان نے 8 مئی کو پولیس کو لکھے گئے خط میں ان الزامات کو جھوٹا قرار دیا ہے۔

خاتون کی شکایت پر پیٹ بشیرآباد پولیس نے بھاگیرتھ کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 74 (خاتون کے وقارکو مجروح کرنے کے ارادے سے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال)، دفعہ 75 (جنسی ہراسانی سے متعلق جرم) اور پاکسو ایکٹ کی دفعات 11 اور 12 (بچے کے جنسی استحصال) کے تحت مقدمہ درج کیا۔

وہیں، بھاگیرتھ کی شکایت پر کریم نگر میں لڑکی کے خاندان کے خلاف بی این ایس کی دفعہ 308 (جبراً وصولی) اور دفعہ 351 (مجرمانہ دھمکی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس کارروائی

دونوں فریق کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات اور ممکنہ سیاسی ردعمل کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ ریڈی نے مبینہ طور پر ڈی جی پی سے کہا کہ تفتیش میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی کی گنجائش نہ چھوڑی جائے۔ انہوں نے معاملے کی پیش رفت کی روزانہ رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

منگل (12 مئی) کو ریتی راج کی نگرانی میں ان مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کی گئی جہاں مبینہ طور پر لڑکی اور بھاگیرتھ گئے تھے۔

خبروں کے مطابق، وزیراعلیٰ نے وسیع تفتیش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کی ہدایت بھی دی، کیونکہ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کرتا جا رہا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسی دوران ڈی سی پی ریتی راج نے منگل کو کہا،’اگر بھاگیرتھ کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے تو ہم اسے گرفتار کریں گے۔ ہم کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) اور دیگر ذرائع سے ملزم کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ شناخت ہونے کے بعد اسے حراست میں لیا جائے گا۔ یہ ایک رجسٹرڈ پاکسو کیس ہے اور متاثرہ کو انصاف دلانا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم شکایت کے تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہے ہیں اور تفصیلی تفتیش جاری ہے۔‘

الزام تراشیاں

مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار نے اپنے بیٹے پر لگے الزامات کو اپنے سیاسی مخالفین کی ’سازش‘قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں نظام انصاف پر اعتماد ہے۔

انہوں نے 9 مئی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،’وقت ہر الزام کا جواب دے گا اور ہر سازش کو بے نقاب کرے گا۔ یہ واضح ہے کہ یہ میرے خلاف ذاتی طور پر چلائی گئی سیاسی سازش ہے، جس کا مقصد معزز وزیر اعظم نریندر مودی جی کی کل کی عوامی ریلی سے پہلے مجھے بدنام کرنا ہے۔ کچھ قوتیں ایک پسماندہ طبقے کے رہنما کے مرکزی وزیر بننے کو ہضم نہیں کر پا رہی ہیں، اسی لیے مودی جی کے دورے سے پہلے مجھے نشانہ بنایا گیا۔‘

بھاگیرتھ کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد بی آر ایس کے ایگزیکٹو صدر کے ٹی راما راؤ نے بھی ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا،’کیا ہمارے ملک کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی مرکزی وزیر داخلہ کا بیٹا مفرور ہے؟‘

انہوں نے یہ بات ان خبروں کے جواب میں لکھی تھی جن میں کہا گیا تھا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد سے بھاگیرتھ فرار ہے۔ بھاگیرتھ کے وکیلوں نے منگل (12 مئی) کو تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے پیشگی ضمانت کی استدعا کی۔ اس کیس کی سماعت جمعرات (14 مئی) کو مقرر کی گئی ہے۔

بی آر ایس کے دیگر رہنما اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ پاکسو کے ملزم کو مقدمہ درج ہونے کے چار دن بعد بھی کھلا گھومنے دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے دباؤ میں کیس کو کمزور کرنے کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی۔

بی جے پی کے ریاستی صدر این رام چندر راؤ نے میڈیا سے کہا کہ یہ ’خاندانی معاملہ‘ہے اور پارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون اپنا کام کرے گا۔ انہوں نے دی وائر سے کہا کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت اس معاملے پر اب تک خاموش ہے اور اپوزیشن جماعتیں’بلاوجہ اسے ایشو بنا رہی ہیں‘۔

بی آر ایس کے خواتین اور طلبہ ونگز نے پیٹ بشیرآباد پولیس اسٹیشن اور ڈی جی پی دفتر کے باہر احتجاج کیا۔

بھاگیرتھ پہلے بھی  تنازعات میں رہ چکا ہے

بھاگیرتھ سے متلق یہ دوسرا بڑا تنازعہ ہے جس نے وزیر بنڈی سنجے کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ تین سال پہلے بھاگیرتھ پر مہندرا یونیورسٹی کیمپس میں اپنے ایک ہم جماعت کے ساتھ مبینہ مار پیٹ کا الزام لگا تھا۔ اس وقت بنڈی سنجے بی جے پی کے ریاستی صدر تھے۔ اس وقت یہ الزام بھی لگا تھا کہ تنازعہ کی جڑ بھاگیرتھ کے ایک دوست سے جڑی ایک خاتون کا تعاقب تھا۔

اس واقعہ کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا، جس میں بھاگیرتھ کو ایک نوجوان کو تھپڑ مارتے اور گالی گلوج کرتے دیکھا گیا تھا۔ یونیورسٹی نے اسے سسپنڈ کر دیا تھا، تاہم ہائی کورٹ نے اس فیصلے پر روک لگا دی تھی۔ اسے امتحان دینے کی اجازت مل گئی  تھی کیونکہ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ معطلی سے پہلے اسے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ بعد ازاں متاثرہ شخص نے لوک عدالت میں کہا کہ وہ اس کیس کو آگے نہیں بڑھانا چاہتا۔

آٹھ مئی کے بعد بڑھتے ہوئے تناؤ کے دوران بنڈی سنجے کے حامی بی جے پی کارکنوں نے کریم نگر کے رکن اسمبلی اور بھارت راشٹرسمیتی (بی آر ایس) رہنما گنگولا کملاکر کے کیمپ دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔ ایک اور بی آر ایس رکن اسمبلی پاڈی کوشک ریڈی کی گاڑی کے شیشے بھی توڑ دیے گئے۔ مشتعل ہجوم سے بچانے کے لیے پولیس کو کوشک ریڈی کو ایک کمرے میں بند کرنا پڑا۔

یہ واقعہ ریڈی کے ایک ذاتی تبصرے کے بعد پیش آیا تھا، جس کا ان کے بیٹے کے خلاف درج کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...