
اسمارٹ فون کمپنیاں ایپل اور گوگل وغیرہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ فیصلہ نافذ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ایپل اور گوگل کی نمائندگی کرنے والے لابنگ گروپ سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن (آئی سی ای اے) کا کہنا ہے کہ ’’پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا ہے، جہاں ڈیوائس کی سطح پر لوکیشن ٹریکنگ کی جاتی ہو۔ لوکیشن سرولنس کے لیے اے-جی پی ایس ٹکنالوجی کا کہیں استعمال نہیں کیا جاتا۔‘‘ آئی سی ای اے کا کہنا ہے کہ اس تجویز سے لیگل، پرائیویسی، اور نیشنل سیکورٹی سے متعلق کئی خدشات ہیں۔ صارفین میں افسران، جج اور صحافی سمیت ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں، جن کے پاس حساس معلومات ہیں۔ لوکیشن ٹریکنگ سے ان کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔






