ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے ہفتہ کے روز کہا کہ ’آپریشن سندور‘ ہنوز جاری ہے اور ہندوستانی مسلح افواج کی تینوں شاخیں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو تینوں افواج ’آپریشن سندور 2.0‘ کے لیے بھی تیار ہیں۔ پونے کے کھڑک واسلا میں واقع نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) کے 150ویں کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں جنرل دویدی نے کہا کہ فی الحال دشمنی پر عارضی وقفہ ہے، لیکن فوج پوری مستعدی کے ساتھ اپنی تیاریوں میں مصروف ہے۔
جنرل اوپیندر دویدی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’آپریشن سندور ابھی جاری ہے۔ اس وقت جنگ بندی جیسی صورتحال ہے، اس لیے ہندوستانی فوج اور تینوں مسلح افواج ممکنہ آپریشن سندور 2.0 کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ فی الحال ہماری توجہ تینوں افواج کے درمیان بہتر تال میل اور مستقبل کی جنگوں کے لیے خود کو تیار کرنے پر مرکوز ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ جنگ کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے اور مستقبل کے تنازعات صرف بری، بحری اور فضائی محاذوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ مستقبل کی جنگوں میں خلا، سائبر اور اطلاعاتی جنگ جیسے نئے چیلنجز نہایت اہم کردار ادا کریں گے۔
ہندوستانی فوجی سربراہ نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ہوئے کہا کہ ’’فتح ہمیشہ ذہن میں حاصل کی جاتی ہے، زمین پر نہیں۔ اطلاعاتی جنگ اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب پورا ملک متحد ہو اور درست معلومات فراہم کرنے والے اداروں پر اعتماد کرے۔ جس قوم کے شہری ایک دوسرے اور اپنے اداروں پر بھروسہ کرتے ہیں، اسے جنگ میں ہمیشہ کامیابی ملتی ہے۔‘‘ جنرل دویدی نے یہ بھی کہا کہ آپریشن سندور نے ثابت کیا ہے کہ ہندوستان ضرورت پڑنے پر درست، متوازن اور فیصلہ کن جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جنرل اوپیندر دویدی کے مطابق آپریشن سندور نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب قومی عزم کو درستگی اور مضبوط ارادے کے ساتھ ظاہر کیا جاتا ہے تو ہندوستان اشتعال انگیزی کا کس طرح جواب دیتا ہے۔ ان کے مطابق اس مہم نے ملک کے فوجی رد عمل کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے اور اب اس معیار کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری نوجوان فوجی افسروں پر ہوگی۔
پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ آج کی دنیا میں سیکورٹی کے چیلنجز تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ خطرات اب ہمیشہ وردی پہن کر یا کسی باقاعدہ محاذ سے سامنے نہیں آتے۔ متنازعہ ’گرے زون‘ سے لے کر تیز رفتار ہائبرڈ جنگ تک، موجودہ سیکورٹی ماحول میں فوجیوں کو فوری اور اسٹریٹجک سوچ کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپریشن سندور کے دوران تینوں افواج کی مربوط اور مشترکہ کارروائی اسی یکجہتی کا نتیجہ تھی، جس کی بنیاد این ڈی اے میں پہلے دن سے رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے کیڈٹس سے کہا کہ مستقبل میں وہ خواہ کسی بھی فوجی شاخ میں خدمات انجام دیں، انہیں دوبارہ کندھے سے کندھا ملا کر ملک کی خدمت کرنی ہوگی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































