اتر پردیش میں آندھی اور بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ نئے مغربی اضطراب (ویسٹرن ڈسٹربنس) کے فعال ہونے کے باعث جمعرات کی دیر شب ریاست کے مختلف اضلاع میں موسم اچانک خراب ہو گیا، اور اس کے بعد سے اب تک کئی علاقوں میں جانی و مالی نقصان دیکھنے کو ملا ہے۔ تیز ہواؤں، بارش اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اب تک 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سینکڑوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے، کچے مکانات کو نقصان پہنچا اور کئی علاقوں میں گھروں پر موجود ٹین کی چھتیں اڑ گئیں۔
سب سے زیادہ اثر بندیل کھنڈ خطہ میں دیکھا گیا، جہاں 15 افراد جاں بحق ہو گئے۔ حمیرپور میں 6 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ باندا میں 3 لوگوں کی موت ہوئی۔ مہوبا اور جالون کے اورئی میں 2-2 افراد کی ہلاکت درج کی گئی۔ اس کے علاوہ کوشامبی میں 4، سہارنپور اور دیوریا میں 2-2 جبکہ پرتاپ گڑھ، امبیڈکر نگر، بلیا، مہاراج گنج، متھرا، اناؤ، فتح پور، رامپور، رائے بریلی، اعظم گڑھ، بھدوہی اور آگرہ میں 1-1 شخص کی موت ہوئی ہے۔ بیشتر حادثات آسمانی بجلی گرنے اور درخت گرنے کے باعث پیش آئے۔
اس درمیان چترکوٹ میں خراب موسم کے اثرات پرندوں پر بھی دیکھنے کو ملے۔ تیز آندھی اور بارش کے باعث تقریباً 500 توتے ہلاک ہو گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق شدید ہواؤں کی وجہ سے کئی درخت گر گئے، جس سے پرندوں کے جھنڈ متاثر ہوئے۔ لکھنؤ سمیت مغربی اور مشرقی اتر پردیش کے کئی اضلاع میں ژالہ باری بھی ہوئی۔ تیز ہواؤں کے باعث متعدد کچے مکانات کی دیواریں منہدم ہو گئیں اور ٹین شیڈ اڑ گئے۔ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر رہی۔ سہارنپور میں شدید بارش کے سبب پہاڑی علاقوں سے پانی کے تیز بہاؤ نے معمولات زندگی کو متاثر کیا۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے خراب موسم سے ہونے والے نقصانات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکام کو امدادی اور بچاؤ کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق ریاست میں موسم کی یہ تبدیلی مغربی اضطراب اور سمندری علاقوں سے آنے والی مرطوب ہواؤں کے باعث ہوئی ہے۔ لکھنؤ موسمیاتی مرکز کے سائنسداں اتل کمار سنگھ نے موجودہ حالات کے بارے میں بتایا کہ مغربی اتر پردیش اور نشیبی علاقوں میں طوفان کا خطرہ بدستور زیادہ ہے۔ کئی مقامات پر ہواؤں کی رفتار 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔
ہندوستانی محکمۂ موسمیات نے آئندہ 2 دنوں تک ریاست میں شدید بارش، گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کی وارننگ جاری کی ہے۔ بعض مقامات پر 80 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرد آلود آندھی چلنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ لکھنؤ، وارانسی اور پریاگ راج سمیت تقریباً 20 اضلاع میں تیز ہواؤں اور بارش کا اثر دیکھا گیا، جہاں بعض جگہوں پر ہوا کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی۔ محکمۂ موسمیات کے اندازے کے مطابق 2 جون تک ریاست میں موسم کی یہی صورتحال برقرار رہ سکتی ہے۔ تاہم یکم جون کے بعد بارش اور آندھی کی سرگرمیوں میں بتدریج کمی آنے کا امکان ہے۔ 3 اور 4 جون کو ریاست میں موسم خشک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































