مغربی بنگال میں خواہ انتخابی عمل مکمل ہو گیا ہو اور حکومت سازی کی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہوں لیکن تشدد ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ 4 مئی کے بعد ریاست میں تشدد کی 400 سے زیادہ وارداتیں سامنے آئی ہیں جن میں کئی لوگوں کی موت بھی ہوئی ہے۔ بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان جاری الزام تراشیوں کے درمیان بدھ کو دیر رات ایک قتل کی واردات نے پوری ریاست میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری کے قریبی معاون اور ان کے پی اے چندرناتھ رتھ کو شمالی 24 پرگنہ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ حکومت بنانے جا رہی بی جے پی کی جانب سے اسے ’ٹارگیٹ کلنگ‘ قرار دیا گیا ہے تو وہیں ٹی ایم سی نے اس قتل کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ چندرناتھ کی لاش کو باراسات اسپتال لایا گیا ہے جہاں پوسٹ مارٹم کی کارروائی انجام دی جائے گی۔ پوسٹ مارٹم کے لیے 3 ڈاکٹروں کا پینل بنایا گیا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو سویندو بھی پوسٹ مارٹم کے وقت موجود رہیں گے۔ اس کے بعد مقتول کی لاش اہل خانہ کو سونپ دی جائے گی۔
بتایا جاتا ہے کہ ضلع کے مدھیم گرام کے ڈول تلا کے پاس موٹر سائیکل پر سوار کچھ حملہ آوروں نے چندر ناتھ رتھ کو روک لیا تھا۔ حملہ آور کافی دیر سے ان کی گاڑی کا پیچھا کر رہے تھے، اس دوران انہوں نے گاڑی کو جبراً رکوایا اور پھر ان پر تابڑ توڑ فائرنگ کر کے موقع سے فرار ہو گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چندرناتھ کو مارنے کے لیے غیر ملکی پستول کا استعمال کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ واردات میں آسٹرین گلوک پستول استعمال کی گئی تھی۔ جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ وہ جس گاڑی میں سوار تھے، اسے سب سے پہلے دہریا جنکشن کے پاس ایک چھوٹی کار نے روکا۔ اس کے بعد موٹر سائیکل سوار ملزم ایس یو وی کے پاس پہنچا اور بہت قریب سے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ گولی باری کے بعد کار میں سوار لوگ اپنی گاڑی وہیں چھوڑ کر موٹر سائیکل سے فرار ہو گئے۔ چندرناتھ اپوزیشن لیڈر سویندو ادھیکاری کے پرسنل اسسٹنٹ (پی اے) کے طور پر کام کر رہے تھے۔ حملے کے وقت وہ مدھیم گرام واقع اپنے گھر لوٹ رہے تھے۔
فائرنگ کی واردات کل رات 10.15 بجے ہوئی جس میں چندرناتھ اور ان کا ڈرائیور بُری طرح زخمی ہو گئے تھے اور خون سے لت پت پڑے ہوئے تھے۔ سنگین طور سے زخمی دونوں کو رات 10.40 بجے اسپتال لے جایا گیا جہاں چندرناتھ کو مردہ قرار دے دیا گیا جبکہ ڈرائیور کا علاج جاری ہے۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے 48 گھنٹے کے اندر ہوئی اس قتل کی واردات سے مغربی بنگال کے سیاسی حلقوں میں سنسنی پھیل گئی ہے۔ بی جے پی اور ٹی ایم سی ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔
اسپتال کے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ چندرناتھ کو مردہ حالت میں ہی یہاں لایا گیا تھا۔ ان کے سینے میں گولیوں کے 2 زخم تھے جس سے ان کی حالت کافی تشویشناک ہو گئی تھی۔ ایک گولی ان کے پیٹ کے حصے میں لگی تھی۔ ان کے ڈرائیور بدھ دیو بیر کو بھی حملے کے دوران گولی لگی تھی۔ ان کی حالت نازک ہے۔ واردات کی خبر ملتے ہی بڑی تعداد میں بی جے پی کارکنان رات 11 بجے اسپتال کے باہر پہنچ گئے اور ہنگامہ کیا۔ بی جے پی رہنماؤں نے قریبی ساتھی کے قتل کو ’ٹارگٹ کلنگ‘ قرار دیا۔ سویندو ادھیکاری نے اس قتل کو ’دل دہلا دینے والا‘ بتایا اور الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے حملے سے پہلے ریکی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سفاکانہ قتل ہے۔ حالانکہ انہوں نے حملے کے پس پشت کسی تنظیم یا پارٹی کا براہ راست نام نہیں لیا اور پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔
دریں اثنا ڈی جی پی سدھ ناتھ گپتا نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں گے، لیکن جس طرح سے حملہ کیا گیا، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے ریکی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے جائے واردات سے کارتوس برآمد کر لئے ہیں اور اس چھوٹی کار کو بھی ضبط کر لیا ہے جس کا مبینہ طور پر واردات میں استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گاڑی کا رجسٹریشن نمبر سلی گوڑی ریجنل ٹرانسپورٹ آفس کا لگ رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ نمبر پلیٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ اس دوران پولیس ذرائع کا کہنا ہے فورنسک ٹیموں نے کار سے نمونے لے لئے ہیں جبکہ جانچ کرنے والی ٹیم واردات کو سمجھنے اور حملہ آوروں کی شناخت کرنے کے لئے آس پاس کے علاقوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج کی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔







































