وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لینے سے عین قبل ٹی وی کے چیف کی مشکلیں بڑھیں، ہائی کورٹ نے دیا ایف آئی آر کا حکم

AhmadJunaidJ&K News urduMay 7, 2026359 Views


محکمۂ انکم ٹیکس نے 30 ستمبر 2015 کو وجئے سے وابستہ مقامات پر تلاشی اور ضبطی کی کارروائی کی تھی۔ اس دوران مبینہ طور پر ایسے دستاویزات ملے تھے، جن میں بے حساب نقد لین دین کے اشارے ملے۔

<div class="paragraphs"><p>تھلاپتی وجئے، تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>تھلاپتی وجئے، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

google_preferred_badge

اداکار سے سیاستداں بنے تھلاپتی وجے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ عہدہ کی حلف برداری کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس حلف برداری سے عین قبل انھیں بری خبر ملی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق ان کے خلاف مبینہ انکم ٹیکس بے ضابطگیوں کے معاملہ میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبہ پر مدراس ہائی کورٹ میں ایک رِٹ پٹیشن داخل کی گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ معاملہ 2015 میں ریلیز فلم ’پُلی‘ سے جڑا ہوا ہے۔ ہائی کورٹ کی رجسٹری نے بدھ (6 مئی 2026) کے روز عرضی کو نمبر دے دیا ہے اور اسے جلد ہی مینٹین ایبلٹی (قابل سماعت ہونے) کے مسئلہ پر سماعت کے لیے فہرست بند کیا جا سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عرضی پہلے گزشتہ ماہ داخل کی گئی تھی، لیکن رجسٹری نے ابتدا میں اسے نمبر دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد 8 اپریل کو چیف جسٹس سشروت اروند دھرمادھکاری اور جسٹس جی ارُل مُروگن کی بنچ نے رجسٹری کو ہدایت دی تھی کہ عرضی کو مینٹین ایبلٹی کے تابع نمبر دیا جائے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ فلم ’پُلی‘ کی ریلیز کے بعد محکمۂ انکم ٹیکس نے 30 ستمبر 2015 کو وجئے سے وابستہ مقامات پر تلاشی اور ضبطی (سرچ اینڈ سیزر) کی کارروائی کی تھی۔ اس دوران مبینہ طور پر ایسے دستاویزات ملے تھے، جن میں بے حساب نقد لین دین کے اشارے ملے۔

دستاویزات کے مطابق فلم کے پروڈیوسر پی ٹی سیلواکمار اور شیبو (ایس کے ٹی اسٹوڈیوز) نے وجئے کو 16 کروڑ روپے چیک کے ذریعے اور تقریباً 4.93 کروڑ روپے نقد دیے تھے۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹی ڈی ایس صرف چیک کے ذریعے دی گئی رقم پر جمع کیا گیا، نقد ادائیگی پر نہیں۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس جانچ کے دوران وجئے سے پوچھ گچھ کی گئی تھی، جس میں انہوں نے مبینہ طور پر تقریباً 5 کروڑ روپے نقد حاصل کرنے کی بات قبول کی اور اس پر ٹیکس ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

اس کے علاوہ وجئے نے مالی سال 16-2015 کے لیے 15 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی کا رضاکارانہ انکشاف کیا تھا۔ بعد میں 29 جولائی 2016 کو وجئے نے اسیسمنٹ ایئر 17-2016 کے لیے 35.42 کروڑ روپے کی کل آمدنی ظاہر کرتے ہوئے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کیا تھا، جس میں یہ اضافی آمدنی بھی شامل تھی۔ ریٹرن میں 17.81 لاکھ روپے کی ڈپریسی ایشن اور 64.71 لاکھ روپے کے فینس کلب اخراجات پر چھوٹ کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا۔ عرضی میں اب انکم ٹیکس کارروائی میں سامنے آئے حقائق کی بنیاد پر وجئے کے خلاف فوجداری کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...