
افغانستان کی فوجی صلاحیتوں کا زوال اس وقت ایک سنگین مسئلہ ہے۔ سابقہ حکومت سے ورثے میں ملنے والا فوجی سازوسامان امریکی اور روسی نظاموں کا ایک پیچیدہ مرکب ہے۔ اس صورتحال کا ’سفاکانہ سچ‘ یہ ہے کہ امریکی سامان کے لیے اسپیئر پارٹس دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے وہ ناکارہ ہو رہا ہے، اور روسی ساختہ پرانا سامان یا تو متروک ہو چکا ہے یا مرمت کے قابل نہیں۔ اس فوجی انحصار نے افغانستان کی خود مختاری کو کھوکھلا کر دیا ہے اور سرحدوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ روس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایک بڑا فوجی پیکج فراہم کرے گا، موجودہ حالات میں غیر حقیقی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات اور داخلی چیلنج
افغانستان ایک ایسی ریاست ہے جو اس وقت عالمی طاقتوں کی شدید مسابقت کے بیچ گھری ہوئی ہے۔ افغانستان بیک وقت ان ممالک کے ساتھ مساوی تزویراتی تعلقات نہیں رکھ سکتا جن کے مفادات ایک دوسرے سے براہ راست متصادم ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ کابل بیک وقت ہندوستان اور پاکستان، روس اور یوکرین، یا امریکہ اور چین کے ساتھ ایک ہی وقت میں گہری تزویراتی مفاہمت برقرار رکھے۔ اس طرح کی توازن برقرار رکھنے کی کوشش افغانستان کو عالمی طاقتوں کے مقابلے کا ایندھن بنا سکتی ہے۔






