
گجرات میں واقع سینٹرل یونیورسٹی میں کچھ طلبہ کے بیمار ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔(فوٹو: یونیورسٹی ویب سائٹ)
نئی دہلی: گجرات کے ضلع وڈودرا کے کندھیلا میں واقع سینٹرل یونیورسٹی آف گجرات (سی یو جی) میں فوڈ پوائزننگ کے اندیشےکے درمیان 30 سے زیادہ طلبہ کے بیمار ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ طلبہ کا الزام ہے کہ میس کے کھانے سے ان کی طبیعت بگڑی، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ اسے ہیٹ اسٹروک (لو لگنا/گرمی کی شدت سے طبیعت بگڑنا) قرار دے رہی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ 19 اپریل (اتوار) کی رات کچھ طلبہ کی طبیعت اچانک خراب ہونے لگی، جس کے بعد تقریباً 11 طلبہ کو 20 کلومیٹر دور واقع ایک سرکاری اسپتال- سر سیاجی راؤ جنرل (ایس ایس جی) میں داخل کرایا گیا، جبکہ کچھ طلبہ کا علاج نجی اسپتال میں ہوا۔
کچھ طلبہ اس واقعہ کو 17 اپریل (جمعہ) کو ہوئے یونیورسٹی کے سالانہ پروگرام سے جوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دن بڑی تعداد میں طلبہ نے ایک ساتھ کھانا کھایا تھا، جو ممکنہ طور پر انفیکٹیڈ ہو سکتا ہے۔
تاہم، اس دعوے پر سوال بھی اٹھ رہے ہیں۔ ایم اے دوسرے سال کے ایک طالبعلم سمیک (بدلا ہوا نام) نے بتایا، ’میں نے اتوار کی صبح میس میں پراٹھے کھائے تھے اور رات کو پنیر کی سبزی کھائی۔ کھاتے وقت ہی لگا کہ سبزی خراب ہے، اس لیے آدھی چھوڑ دی۔ اس کے بعد پیٹ درد اور الٹیاں شروع ہو گئیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا،’دو دن بعد یعنی 21 اپریل سے امتحانات شروع ہونے تھے، اس لیے تقریباً 15-20 طلبہ اسپتال نہیں گئے اور ہاسٹل میں ہی قے کرتے رہے۔‘ سمیک کے مطابق، فوڈ پوائزننگ کی وجہ سے وہ اپنا ایک امتحان بھی نہیں دے سکے۔
اسی طرح جرمن زبان میں گریجویشن کر رہے ایک طالبعلم روشن (بدلا ہوا نام) نے بھی کہا کہ انہوں نے سالانہ پروگرام کا کھانا نہیں کھایا تھا، اس کے باوجود وہ بیمار پڑ گئے، جس سے یہ شبہ کمزور پڑتا ہے کہ واقعہ صرف اسی پروگرام کے کھانے سے جڑا تھا۔
دوسری جانب، اس معاملے پر سوال کیے جانے پر یونیورسٹی کے پبلک ریلیشنز آفیسر (پی آر او) سنیل شرما نےدی وائر سے کہا کہ طلبہ ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے بیمار ہوئے۔ ان کے مطابق،’سنیچر اور اتوار کو طلبہ کو خریداری کے لیے بس کے ذریعے شہر لے جایا جاتا ہے اور اسی دوران وہ گرمی کی لپیٹ میں آ گئے۔‘
تاہم، طلبہ اس دعوے پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ سمیک کا کہنا ہے، ’امتحانات کی وجہ سے کئی طلبہ باہر گئے ہی نہیں تھے۔ میرے ہاسٹل میں 13 سے 15 طلبہ بیمار پڑے، جن میں سے زیادہ تر پچھلے دو-تین دنوں سے باہر نہیں نکلے تھے۔‘
علاج کے دوران لگائی گئی ایکسپائرڈ ڈرپ
فوڈ پوائزننگ کے خدشات کے درمیان علاج کے لیے کیمپس کے ہیلتھ سینٹر پہنچنے والی ایک طالبہ کے ساتھ سنگین لاپرواہی کا الزام بھی لگایا جا رہا ہے۔
طلبہ کے مطابق، 22 اپریل کو انگلش اسٹڈیز کی ایم اے سیکنڈ ایئر کی طالبہ خوشی پٹیل کو علاج کے دوران آئی وی فلوئیڈ لگایا گیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ بوتل ایکسپائر ہو چکی تھی۔ الزام ہے کہ جب اس پر عملے سے سوال کیے گئے تو انہوں نے فوراً ثبوت ہٹانے کی کوشش کی اور دفاعی رویہ اختیار کر لیا۔
سمیک نے بتایا،’خوشی کو فوڈ پوائزننگ کی علامات تھیں۔ امتحان کی وجہ سے وہ اسپتال میں داخل نہیں ہوئیں اور یونیورسٹی کے ہیلتھ سینٹر گئیں، جہاں انہیں ڈرپ لگائی گئی۔ ڈرپ تقریباً مکمل ہو چکی تھی کہ قریب بیٹھے ایک طالبعلم کی نظر بوتل پر درج ایکسپائری کی تاریخ پر پڑی، جو تقریباً دو ماہ پہلے ہی گزر چکی تھی۔‘
انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی یہ بات پھیلی، کئی طلبہ اور اساتذہ ہیلتھ سینٹر پہنچ گئے اور احتجاج شروع ہو گیا۔
ڈرپ پر فروری 2026 کی ایکسپائری تاریخ درج تھی۔ (فوٹو: اسپیشل ارینجمنٹ)
یونیورسٹی کے پی آر او سنیل شرما نے بھی لاپرواہی کی تصدیق کرتے ہوئے دی وائر کو بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے،’ ہیلتھ سینٹر میں تعینات ڈاکٹر، فارماسسٹ اور نرسنگ اسٹاف کے خلاف انکوائری شروع کی گئی ہے اور تینوں کو فوری طور پر چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔‘
طلبہ کا کہنا ہے کہ علاج میں اس طرح کی لاپرواہی سے ان کی حالت مزید بگڑ سکتی تھی۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ ہیلتھ سینٹر کی کارکردگی کے حوالے سے پہلے بھی کئی بار شکایات کی گئی تھیں، لیکن کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی۔ تاہم، پی آر او نے ان وسیع الزامات کی تردید کی۔
’مانگنے پر بھی یونیورسٹی ایمبولینس نہیں دیتی‘
طلبہ نے کیمپس میں طبی سہولیات کی کمی پر بھی شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے اردگرد 20 کلومیٹر کے دائرے میں کوئی بڑا اسپتال موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے انہیں کیمپس کے ہیلتھ سینٹر پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق وہاں مناسب طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔
طلبہ کے مطابق، کیمپس میں ایمبولینس کی سہولت تو موجود ہے، لیکن اس کا استعمال محدود اور شرائط سے مشروط ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک طالبعلم نے بتایا،’اگر کوئی طالبعلم رات 12 بجے بیمار ہو جائے اور ایمبولینس طلب کرے، تو کہا جاتا ہے کہ 3 بجے کے بعد ہی ایمبولینس ملے گی۔ کئی بار یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب تک 2-3 طلبہ بیمار نہ ہوں، ایمبولینس نہیں چلے گی۔‘
روشن نے بھی اسی طرح کا الزام لگایا،’جب تک 2-3 طلبہ ایک ساتھ بیمار نہیں ہوتے، انتظامیہ ایمبولینس فراہم نہیں کرتی۔‘
تاہم، یونیورسٹی انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ پی آر او سنیل شرما نے کہا،’کیمپس میں 24×7 ایمبولینس کی سہولت دستیاب ہے۔ ہیلتھ سینٹر کا میڈیکل اسٹاف جسے بھی ریفر کرتا ہے، اسے فوراً ایمبولینس فراہم کی جاتی ہے۔‘
’کھانے میں کیڑے، چیونٹیاں اور بال ملنا عام بات ہے‘
طلبہ کا کہنا ہے کہ میس کے کھانے کے معیار کے حوالے سے کافی عرصے سے شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ روشن نے دی وائر سےکہا،’ہم نے کئی بار انتظامیہ سے شکایت کی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ کھانے میں کیڑے، چیونٹیاں اور بال ملنا تقریباً معمول بن چکا ہے۔‘
فوٹو: ارینجمنٹ
طلبہ نے 11-12 اپریل کے ہاسٹل گروپ چیٹ کے اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے ہیں، جن میں کھانے میں کیڑے ملنے کی تصویریں ہیں اور طلبہ ایک دوسرے کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔
طلبہ کے مطابق، کیمپس شہر سے 10-15 کلومیٹر دور ہے اور قریبی گاؤں بھی 2-3 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ ایسی صورتحال میں ان کے پاس میس کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں ہے۔ ایک طالبعلم نے کہا،’ہمارے لیے میس کا کھانا لینا لازمی ہے۔ اگر ہم میس نہیں لیتے، تو ہمیں ہاسٹل بھی نہیں ملتا۔‘
فوٹو: ارینجمنٹ
حالیہ واقعہ کے بعد بھی طلبہ نے میس کی حالت پر سوال اٹھائے ہیں۔ ایک طالبعلم نے بتایا،’جمعرات کو جب میں نے میس کا فریج کھولا، تو اس کے اوپر کئی کیڑے تھے، جو فریج کھولتے ہی اندر چلے گئے۔‘
اس معاملے میں میس انچارج ڈاکٹر سوربھ سے رابطہ کیا گیا، لیکن انہوں نے یونیورسٹی کے پی آر او سے بات کرنے کو کہا۔
دوسری جانب، یونیورسٹی انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ پی آر او سنیل شرما نے کہا کہ پہلے موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر پرانے وینڈر کو ہٹا دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق،’نئے وینڈر کے آنے کے بعد میس سے متعلق کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے،‘ اور اب کھانے کا معیار ’اطمینان بخش‘ہے۔
میس کے دودھ میں ملاوٹ کا شبہ، طلبہ کا دعویٰ- لیب ٹیسٹ میں فارملین کے آثار
فوڈ پوائزننگ کے واقعہ کے درمیان طلبہ نے میس میں فراہم کیے جانے والے دودھ کے معیار پر بھی سنگین سوال اٹھائے ہیں۔ کیمیکل سائنسز ڈپارٹمنٹ کے ایم ایس سی طلبہ نے اپنی سطح پر دودھ کے نمونے کی جانچ کی، جس میں فارملین (فارملڈہائڈ) کی موجودگی کے آثار ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹیسٹ 10 اپریل کو کیا گیا تھا۔
طلبہ کے مطابق،’ہم نے اپنی کیمسٹری لیب میں دودھ کا ٹیسٹ کیا۔ یوریا یا ڈیٹرجنٹ کی جانچ کے لیے ضروری ری ایجنٹس ہمارے پاس نہیں تھے، لیکن فارملین کے ٹیسٹ میں نتیجہ مثبت آیا۔ ٹیسٹ کے دوران جامنی/نیلے رنگ کی رنگت بنی، جو فارملڈہائڈ کی موجودگی کی نشاندہی کرتی ہے۔‘
فوٹو: ارینجمنٹ
تاہم، طلبہ نے واضح کیا کہ یہ کوئی باضابطہ یا مجاز جانچ نہیں تھی۔ چیٹ پیغامات میں انہوں نے کہا،’ہمارے پاس غذائی نمونوں کی سرکاری جانچ کا اختیار نہیں ہے اور نہ ہی تمام معیاری کیمیکلز دستیاب ہیں، اس لیے اسے ابتدائی مشاہدہ ہی سمجھا جانا چاہیے۔‘
اس کے باوجود، طلبہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ دودھ میں فارملین کی موجودگی کا امکان’بہت زیادہ‘ہو سکتا ہے، اگرچہ انہوں نے تکنیکی غلطی کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی تصدیق کے لیے کسی سرکاری ادارے سے آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ طلبہ نے کہا،’کم از کم دوبارہ تصدیق کے لیے ہی سہی، یونیورسٹی کو چاہیے کہ سرکاری ایجنسیوں سے دودھ کی جانچ کروائے۔‘
دوسری طرف، ان الزامات پر یونیورسٹی کے پی آر او سنیل شرما نے کہا، ’یہ معاملہ میرے علم میں نہیں ہے۔ میں اس کی معلومات حاصل کرتا ہوں۔ الزامات سنگین ہیں، ان کی جانچ کروائی جائے گی۔‘
غور طلب ہے کہ فارملین، فارملڈہائڈ کا آبی محلول ہوتا ہے، جسے زہریلا اور ممکنہ طور پر سرطان پیدا کرنے والا کیمیکل سمجھا جاتا ہے۔ طویل عرصے تک اس کے استعمال سے صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔






