سنبھل ضلع انتظامیہ نے ضلع کے بچھولی گاؤں میں ایک امام باڑے اور عیدگاہ کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے منہدم کر دیا کہ یہ عمارتیں سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں۔
اتر پردیش کے سنبھل ضلع کے بچھولی گاؤں میں سرکاری زمین پر مبینہ طور پر تعمیر کیے گئے’امام باڑہ‘اور’عیدگاہ‘کو ہٹانے کے لیے جمعرات، 15 اپریل کو ضلع انتظامیہ کی جانب سے انہدامی کارروائی کی گئی۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: اتر پردیش کے سنبھل میں ضلع انتظامیہ نے جمعرات (16 اپریل) کو بچھولی گاؤں میں ایک امام باڑہ اور عیدگاہ کو یہ کہتے ہوئے منہدم کر دیا کہ یہ عمارتیں سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر بنائی گئی تھیں۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق،لاء اینڈ آرڈر کی کسی بھی ممکنہ صورتحال کو روکنے کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور کئی بلڈوزروں کی مدد سے یہ کارروائی انجام دی گئی۔
حکام کے مطابق، جس زمین پر یہ عمارتیں بنی تھیں، وہ سرکاری ریکارڈ میں کھاد کے گڑھے (مینور پٹ) کے طور پر درج ہے۔ تحصیلدار عدالت نے جنوری میں بے دخلی کا حکم جاری کرتے ہوئے وہاں سے تجاوزات ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔ اس کے بعد ضلع انتظامیہ نے کارروائی کی تیاری شروع کی اور عمل کی نگرانی کے لیے ریونیو افسران کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔
اخبار کے مطابق، جمعرات کی صبح تقریباً 9 بجے انتظامیہ کی ٹیم چار بلڈوزروں کے ساتھ موقع پر پہنچی، جس کے بعد انہدامی کارروائی شروع کی گئی اور ایس ڈی ایم ندھی پٹیل کی موجودگی میں امام باڑہ اور عیدگاہ کو گرا دیا گیا۔
اس کارروائی کی حساسیت کے پیش نظر پورے علاقے کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ریپڈ رسپانس فورس (آر آر ایف) اور مقامی پولیس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔
ضلع مجسٹریٹ راجندر پینسیا نے کہا کہ یہ کارروائی مکمل طور پر عدالت کے احکامات کی تعمیل میں کی گئی ہے اور اس کا مقصد سرکاری زمین کو تجاوزات سے آزاد کرانا ہے۔
































