راحت اور بربادی کے درمیان

AhmadJunaidJ&K News urduApril 22, 2026360 Views


لبنانی عوام کے ایک وسیع حلقے کے ساتھ بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سودے بازی کو بھی رد کر دیتے ہیں۔ایک بڑا حلقہ ابھی بھی حزب اللہ کو ہی لبنانی قوم پرستی کی علامت اور اسرائیل کے خلاف قوت کے بطور تسلیم کرتا ہے۔

ایک بچے کے سونوگرام کی تصاویر تباہ شدہ عمارت کے ملبے کے درمیان پڑی ہیں، جس پر ایک ہفتہ قبل اسرائیلی فضائی حملے میں بمباری کی گئی تھی، وسطی بیروت، لبنان میں، جمعرات، 16 اپریل 2026۔ تصویر: حسین مَلا / اے پی۔

سات اور آٹھ اپریل کی درمیانی شب، جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خبر سے خلیجی ممالک اور اس کے اطراف میں سکون کا احساس پیدا ہوگیا،سینکڑوں میل دور لبنان کے دارالحکومت بیروت میں امن کی امید اسی تیزی سے ٹوٹ گئی جس تیزی سے وہ پیدا ہوئی تھی۔

سوشل میڈیا پر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد ہی پینتیس سالہ فادی زیدان، جو سمندر کے کنارے اپنے معمر والدین کے ساتھ پناہ لیے ہوئے تھا، اپنے آبائی شہر نبطیہ روانہ ہوا۔ مگر وہ کبھی وہاں پہنچ نہ سکا۔

چند ہی گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری دوبارہ شروع ہو گئی، جس میں وہ اور اس کے والدین زخمی ہو گئے۔ پورے لبنان میں اس دن صرف دس منٹ کی بمباری میں تین سو سے زائد افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔

اس کے بعد سے ہلاکتوں کی تعدا تو دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔جبکہ دس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ 16 اپریل کو جب یہ خبر آئی کہ لبنان کو بھی امریکہ-ایران عارضی جنگ بندی میں شامل کیا گیا ہے، تو اس کے اگلے روز میں نے بیروت میں اپنے صحافی دوست روان سعید کو فون کیا۔ اس نے کہا؛


’کئی ہفتوں میں پہلی بار بیروت کا آسمان خاموش ہے۔ کل رات کوئی جنگی طیارہ موت کا پیامبر بن کر نہیں آیا۔’  وہ کہہ رہی تھی کہ ‘ہم نے ٹی وی پر غزہ کی بربادی دیکھی ہے اور بے بسی کے ساتھ ہم صرف انتظار کر رہے تھے کہ یہ یہاں بھی اس کو دوہرایا جائےگا۔ ‘


اسرائیلی بمباری میں غیر یقینی وقفہ لبنان کے لیے  ایک عارضی راحت تو  لے آیا ہے، مگر اس نے اس ملک کی وہ حقیقت بھی عیاں کر دی ہے جو برسوں سے دوسروں کی جنگوں کے سائے میں زندہ ہے۔

بحیرہ روم کے کنارے واقع یہ خوبصورت ملک کئی دہائیوں سے عدم استحکا م سے دوچار ہے۔ اس ملک میں پہاڑ اچانک ساحل کے پیچھے نمودار ہو جاتے ہیں، جن کی برف پوش چوٹیاں دھوپ میں چمکتے سمندر کے ساتھ نظر آتی ہیں۔

بیروت، جسے کبھی’مشرقِ وسطیٰ کا پیرس‘کہا جاتا تھا، آج زخمی حالت میں پھڑپھڑا رہا ہے۔

محض 3800 مربع میل کے اس چھوٹے سے ملک میں تقریباً 60 لاکھ افراد آباد ہیں، مگر اس کے اندر جغرافیہ، تاریخ اور ثقافت کی حیران کن تنوع موجود ہے۔

لبنان کے علاوہ کوئی اور عرب ملک اتنا کثیرجہتی اور رنگا رنگ ثقافت کا حامل نہیں ہے۔

ایک وقت ایسا تھا جب اسے نہایت جدید اور بہت مستحکم ملک سمجھا جاتا تھا۔ بیروت کی امریکن یونیورسٹی خطے کا ایک بڑا تعلیمی مرکز تھی۔

تقریباً 53 فیصد آبادی مسلمان ہے، جو تقریباً برابر سنی اور شیعہ میں تقسیم ہے۔ 41 فیصد عیسائی ہیں، جن میں مارونی کیتھولک سب سے بڑا گروہ ہیں، جبکہ دروز برادری تقریباً 5 فیصد ہے۔یہ تنوع صرف سماجی نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے میں بھی پیوست ہے۔

صدر مارونی عیسائی، وزیر اعظم سنی مسلمان، اسپیکر شیعہ مسلمان، اور دیگر عہدے بھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیے گئے ہیں، تاکہ کسی بھی فرقہ کو بے اختیاری یا نظام کے باہر رہنے کی شکایت نہ پیدا ہو۔

یہ نظام توازن برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اس نے تقسیم کو مستقل شکل دے دی ہے۔ ہر فیصلہ ایک سودے بازی بن جاتا ہے، اور ہر بیرونی جھٹکا اندرونی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

موجودہ دور میں شاید ہی کوئی اور ملک ہو جو اتنی بار علاقائی تنازعات کا میدان بن گیاہو۔1948 کے بعد فلسطینی مسلح موجودگی، 1975 سے 1990 تک خانہ جنگی، شامی فوجی غلبہ، بار بار اسرائیلی حملے، 1980 کی دہائی میں حزب اللہ کا ابھرنا اور ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی میدان ، اور 2011 کے بعد شام کی جنگ کے اثرات،ہر مرحلہ اس ملک کو مزید پیچیدہ بناتا گیا۔

صبرا اور شتیلا کے کیمپ آج بھی اس تاریخ کی سب سے گہری علامت ہیں۔ 1982 کا قتل عام آج بھی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔ جنوبی بیروت میں یہ  کیمپ صرف یادگار نہیں رہے، بلکہ زندہ بستیاں ہیں، جہاں فلسطینی مہاجرین اور شامی پناہ گزین انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

تنگ گلیاں، الجھی ہوئی تاریں، عارضی گھر،یہ سب ایک ایسی زندگی کی تصویر ہیں جو نہ عارضی ہے نہ محفوظ اور بار بار، جنگ ان کے دروازے تک پہنچ جاتی ہے۔

لبنان نے پہلے بھی جنگیں دیکھی ہیں، مگر روان سعید کا کہنا تھا  اس بار یہ جنگ مختلف ہے۔اسرائیل کے منہ کو خون لگ گیا ہے، اور وہ عالمی دباؤ کو درکنار کرکے لبنان کو غزہ کی طرح برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔

مارچ کے آغاز سے اسرائیلی افواج نے فضائی اور زمینی کارروائیوں کا ایک مشترکہ سلسلہ شروع کردیا تھا، جس کا نشانہ صرف جنوبی لبنان نہیں بلکہ بیروت، صور اور بقاع وادی جیسے علاقے بھی بنے۔

جنوبی لبنان کے بہت سے خاندانوں کے لیے بے گھر ہونا اب ایک وقتی سانحہ نہیں، بلکہ ایک بار بار دہرایا جانے والا چکر بن چکا ہے۔

عالیہ، چار بچوں کی ماں، جو اپنے بوڑھے والدین کی دیکھ بھال بھی کر رہی ہے، ایک ایسی زندگی بیان کرتی ہے جس میں وقار باقی نہیں رہا۔ نہ کپڑے بدلنے کی کوئی نجی جگہ، نہ خاندانوں کے درمیان کوئی حد، نہ کوئی ذاتی دائرہ۔

یہ خوف ایک وسیع تر نفسیاتی بحران کا حصہ ہے۔ اس جنگ سے پہلے بھی لبنان کی تقریباً نصف آبادی ڈپریشن، بے چینی یا صدماتی دباؤ کا شکار تھی اوربے گھر افراد میں یہ شرح اور زیادہ  بتائی جاتی ہے۔

سوال ہے کہ کیا لبنان کو 8اپریل کی جنگ بندی میں شامل کیا گیا تھا؟  ایران، پاکستان اور کئی بیرونی مبصرین نے اعلانیہ یہ موقف اختیار کیا کہ لبنان امریکہ-ایران جنگ بندی میں شامل تھا۔

لیکن اسرائیل کے اصرار پر بعد میں امریکہ نے لبنان کو ایک الگ محاذ کے طور پر تسلیم کیا، اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے صاف الفاظ میں کہا کہ لبنان میں کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔

گو کہ کوئی ایسا حتمی اور عوامی طور پر تسلیم شدہ متن موجود نہیں جو یہ غیر مبہم طور پر ثابت کرے کہ لبنان اس جنگ بندی میں شامل تھا، مگر اس بات کے مضبوط شواہد ضرور ہیں کہ وہ کم از کم اس مفاہمت کا حصہ تھا۔ اس کے بعد اسرائیل نے یکطرفہ طور پر اس کے بالکل برعکس تشریح پر عمل کیا۔

اسرائیل نے خاص طور پر بنت جبیل کو، زمینی کارروائیوں کا مرکز بنادیا، جبکہ بیروت، صور، بقاع وادی اور دوسرے ایسے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔

مارچ میں ہی اسرائیل نے سرحد کے نزدیک اپنی فوجی تعداد دوگنے سے بھی زیادہ کر دی تھی۔گو کہ حزب اللہ نے یہ ضرور دکھایا ہے کہ وہ خاص طور پر بنت جبیل جیسے دشوار، شہری-سرحدی علاقوں میں اسرائیل کی زمینی پیش قدمی کو سست کر سکتی ہے لیکن یہ کہنا کہ اس نے اسرائیلی فوج کو بہت بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا یا، مبالغہ ہوگا۔

جنوبی لبنان کے شہر جبچت میں اسرائیلی فضائی حملے میں تباہ ہونے والی مسجد کے اندر ایک مقامی رہائشی ملبے کے درمیان سے چل رہا ہے۔ تصویر: اے پی۔

مصیبت صرف جنوب تک محدود نہیں۔ لوگ جنوبی لبنان، بقاع وادی، اور بیروت کے جنوبی مضافات سے بھی نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ اسپتال، ایمبولینسیں اور ریڈ کراس کی تنصیبات بھی دباؤ کا شکار رہی ہیں یا حملوں کی زد میں آئی ہیں۔

لبنان میں موجود صحافیوں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ عوامی مزاج خوف، تھکن، غم، غصے اور داخلی تقسیم کا مجموعہ ہے۔ اسرائیلی بمباری پر غصہ موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ لبنان کے اندر یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ حزب اللہ نے لبنان کو ایک وسیع تر علاقائی جنگ میں مزید گہرا کیوں دھکیل دیا۔

لبنانی عوام کے ایک وسیع حلقے کے ساتھ بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہر قیمت پر جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، مگر اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سودے بازی کو بھی رد کردیتے ہیں۔ایک بڑاحلقہ ابھی بھی حزب اللہ کو ہی لبنانی قوم پرستی کی علامت اور اسرائیل کے خلاف قوت کے بطور تسلیم کرتا ہے۔

عسکری جغرافیہ اور سیاسی علامت کے لحاظ سے بنت جبیل خاصا اہم علاقہ ہے۔ سیاسی طور پر یہ حزب اللہ کے سب سے زیادہ علامتی اہمیت رکھنے والے مضبوط مراکز میں سے ایک ہے، جو پچھلی جنگوں اور مزاحمت کے بیانیے سے جڑا ہوا ہے۔

یہ اس سوال کی آزمائش بن چکا ہے کہ آیا اسرائیل اپنی فضائی برتری کو ایک ایسے انتہائی مخاصمانہ ماحول میں پائیدار زمینی کنٹرول میں بدل سکتا ہے یا نہیں، یا پھر یہ ایک ایسی جگہ ثابت ہوگی جہاں وقتی فوجی کامیابیاں طویل المیعاد سیاسی اور عسکری حد سے بڑھی ہوئی مہم میں تبدیل ہو جائیں گی۔

اگر اسرائیل بنت جبیل پر قبضہ جما لیتا ہے اور اسے برقرار رکھتا ہے، تو جنوبی لبنان میں ایک نئے سکیورٹی نقشے کو مسلط کرنے کے لیے اس کی دلیل مضبوط ہوگی۔

لیکن اگر بنت جبیل ایک طویل اور تھکا دینے والی لڑائی میں بدل گیا، تو یہ اس خیال کو تقویت دے گا کہ اسرائیل کی کسی بھی گہری زمینی پیش قدمی کا نتیجہ ایک مہنگی قبضہ گیری کی صورت میں نکل سکتا ہے، جو حزب اللہ کو عسکری کمزوری کے باوجود سیاسی طور پر پھر سے زندہ کر دیگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا طویل قبضہ بالآخر حزب اللہ کے لیے ہی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

 واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہوئے براہِ راست مذاکرات میں دونوں فریق مختلف ایجنڈوں کے ساتھ پہنچے تھے۔ لبنان جنگ بندی چاہتا تھا، جبکہ اسرائیل اس کے بجائے حزب اللہ کے اسلحے سے دستبرداری اور طویل المدتی سیاسی بندوبست پر زور دے رہا تھا۔

صدر جوزف خلیل عون گزشتہ سال اسی وقت صدارت سنبھال سکے، جب اسرائیل نے حزب اللہ کو کمزور کر دیا تھا۔ 2022 کے انتخابات میں حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں نے پارلیمانی اکثریت کھو دی تھی، لیکن پارلیامنٹ کے اسپیکر کے انتخاب میں کامیاب رہے تھے۔موجودہ صدر اور وزیر اعظم نواف سلام کا خیال ہے کہ موجودہ صورت حال جس میں ایران ایک طرف اپنی جنگ میں مصروف ہے، دوسری طرح حز ب اللہ کو اسرائیلی حملوں نے عسکری طور پر کمزور کردیا ے، ریاستی اختیار کو واپس لینے کا ایک نادر موقع ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ لبنانی حکومت کے کچھ اعلیٰ حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ لمحہ، ایک ایسا موقع ہے جب حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جا سکے یا کم از کم اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرکے ریاستی رٹ کو بحال کیا جائے۔ اسی میں واشنگٹن اور عرب ممالک کا بھی مفاد ہے۔

اسرائیل لبنانی سرزمین کے اندر ایک بتدریج حفاظتی پٹی قائم کرنے پر زور دے رہا ہے۔ جس کا مقصد حزب اللہ کو سرحد سے دور دھکیلنا اور اسے وہاں دوبارہ اپنا فوجی ڈھانچہ قائم کرنے سے روکنا ہے۔

یہ ایک طرح سے’گریٹر اسرائیل‘ کی طرف ایک پیش قدمی ہے، جس کے تحت اسرائیل ہمسایہ ممالک سے زیادہ سے زیادہ زمین چاہتا ہے۔

اس سے قبل اسرائیل نے یہی رویہ شام کے ساتھ بھی اپنایا۔ نوے کے دہائیوں میں اوسلو اکارڈ کے وقت اس وقت کے وزیرا عظم اسحاق رابین کا تصور اپنے حدود کے اندر ایک پُرامن اسرائیل کا قیام تھا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ 1973 کی جنگ نے اسرائیل کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے زعم کو پاش پاش کر دیا تھا اور اس وقت کی قیادت اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ اسرائیل کا تحفظ اب محض طاقت سے نہیں بلکہ ہمسایہ ممالک سے سلامتی کی ضمانتیں حاصل کر کے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ مگر نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل ایک بار پھر 1967 کی ذہنیت کی طرف لوٹ آیا ہے۔

خیر مگر کیا لبنانی فوج وہ کچھ کر سکتی ہے جس کی اسرائیل توقع رکھتا ہے؟ لبنانی مسلح افواج کمزور ہی سہی مگر ملک کے چند ایسے اداروں میں سے ایک ہیں جو قومی سطح پر ایک حد تک قبولیت رکھتے  ہیں، اور 2006 سے اب تک امریکہ تربیت و اسلحہ کی فراہمی  وغیر ہ پر تین ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ فوج کو مزید وسائل، مالی مدد اور سیاسی پشت پناہی درکار ہوگی۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ زبردستی اور کھلے تصادم کی صورت میں اندرونی خانہ جنگی بھڑک سکتی ہے اور خود فوج کی وحدت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

فوج کے سربراہ جنرل روڈولف ہیکل نے فی الحال، حزب اللہ کے ساتھ کسی بھی تصادم سے بچنے کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے۔

بیروت میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لبنانی فوج کو اگر عرب ریاستوں، امریکہ، اور مقامی آبادی کی پشت پناہی حاصل ہو، تو وہ حزب اللہ کو محدود کرسکتی ہے۔مگر ایسا صرف مستقل جنگ بندی اور اسرائیل کو مداخلت سے باز رکھنے کے بعد ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اسرائیلی مداخلت عوام میں ہیجان برپا کردیتی ہے اور وہ پھر مزاحمت کے لیے حزب اللہ پر ہی بھروسہ کرپاتے ہیں۔

یہ بھی سچ ہے کہ لبنانی جنگ اور معاشی تباہی سے تھک چکے ہیں،وہ دائمی امن کے راستے اپنانا چاہتے ہیں۔ مگر ایک مضبوط حلقہ  اسرائیلی بمباری کے دوران غیر مسلح ہونے کی بات کو ذلت بلکہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف سمجھتا ہے۔

حزب اللہ کے شدید مخالفین بھی یہ نہیں چاہتے کہ اسرائیل فوجی دباؤ کے ذریعے لبنان کے داخلی نظام میں مداخلت کرے۔

لبنان آج ایک ایسی سرزمین بن چکا ہے جہاں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی، بلکہ گھروں، یادوں اور انسانوں کے اندر بھی جاری رہتی ہے۔

ایک ایسا ملک جو کبھی مشرقِ وسطیٰ کی روشن پیشانی سمجھا جاتا تھا، آج بے یقینی، معاشی شکستگی اور بیرونی قوتوں کی کشمکش کے درمیان سانس لے رہا ہے۔

اس کی گلیوں میں ملبہ صرف عمارتوں کا نہیں، بلکہ ادھورے خوابوں کا بھی ہے۔ مگر اس تمام کسمپرسی کے باوجود، لبنان کی کہانی صرف زوال کی نہیں۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں تباہی کے بیچ بھی زندگی ضد سے پھوٹتی ہے، جہاں بے گھر بچوں کی ہنسی، کسی ماں کی دعا، یا کسی اجڑے گھر کی دوبارہ تعمیر کی خواہش ایک نئی صبح کا وعدہ بن جاتی ہے۔

شاید یہی لبنان کی اصل طاقت ہے۔ اس میں ہر بار ٹوٹ کر بھی جڑ جانے کی صلاحیت ہے۔ شاید یہ اب آخری جنگ ثابت ہو اور یہ ملک ایک وقار کے ساتھ اپنے بل بوتے پر دوبارہ مشرق وسطیٰ کی روشن پیشانی بنے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...