
پون کھیڑا نے کہا کہ عام لوگ برسوں سے 15 لاکھ روپے کے وعدے کا انتظار کرتے رہے لیکن اب ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے جس میں 15.15 لاکھ کروڑ روپے کے کاروباری لین دین اور مالیاتی ریکارڈ پر سنگین سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق سیبی نے کمپنی اور اس کے پروموٹرز کے خلاف مالیاتی بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہونے کے باوجود فوری کارروائی نہیں کی، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مارچ 2024 میں ایک حصص دار کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی تھی، لیکن سیبی نے اس پر سات ماہ تک کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ پون کھیڑا کے مطابق شکایت میں کئی ایسے نکات موجود تھے جو کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے تھے، تاہم ان پر بروقت توجہ نہیں دی گئی۔





