
فرید آباد میں ’سناتن ہندو ایکتا پدیاترا‘ میں دھیریندر کرشن شاستری۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: مرکزی وزارت داخلہ نے مدھیہ پردیش کےکتھاواچک دھیریندر کرشن شاستری کی قیادت والی مذہبی تنظیم بابا باگیشور دھام کو فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (ایف سی آر اے)کے تحت رجسٹریشن دے دیا ہے۔
دی ہندو کی خبر کے مطابق، ’ہندو راشٹر‘کے قیام کی وکالت کرنے والے 29 سالہ شاستری اکثر سیاسی رہنماؤں کے ساتھ نظر آتے رہےہیں اور مذہبی معاملوں پر اپنے اشتعال انگیز بیان کے لیے معروف ہیں۔
ان کی ویب سائٹ پر ملک کے اندر سے عطیات وصول کرنے کے لیے ایک الگ سیکشن موجود ہے۔ اخبار کی جانب سے کئی بار کوشش کے باوجود باگیشور دھام سے اس سلسلے میں تبصرہ حاصل نہیں کیا جا سکا۔
قابل ذکر ہے کہ غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے کی خواہشمند غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) یا انجمنوں کے لیے ایف سی آر اے کے تحت رجسٹریشن لازمی ہوتا ہے۔
این جی اوز سماجی، تعلیمی، مذہبی، اقتصادی اور ثقافتی پروگراموں کے لیے غیر ملکی امداد حاصل کر سکتے ہیں اورکم از کم ایک یا ایک سے زیادہ زمروں میں رجسٹر ہو سکتے ہیں۔
مدھیہ پردیش کے چھترپور میں واقع شری باگیشور جن سیوا سمیتی گڑھا کو ثقافتی، اقتصادی، تعلیمی اور سماجی زمروں کے علاوہ ’دھارمک (ہندو)‘ زمرے کے تحت بھی رجسٹر کیا گیا ہے۔
اس سال 15 اپریل تک 38 اداروں کو وزارت داخلہ کی جانب سے غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایف سی آر اے رجسٹریشن حاصل کرنے والے ان 38 این جی اوز میں سے چھ کو ’دھارمک (ہندو)‘ زمرے کے تحت غیر ملکی عطیات حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
باگیشور دھام کے علاوہ اس زمرے میں رجسٹر دیگر اداروں میں مغربی بنگال کے بول پور اور بہار کے پورنیہ میں رام کرشن مشن، دہلی میں دیویہ جیوتی جاگرتی سنستھان، کرناٹک کے دھرم استھل میں واقع ادارہ، اور اتر پردیش کے آگرہ میں رادھا سوامی ستسنگ شامل ہیں۔
معلوم ہو کہ ایف سی آر اے رجسٹریشن پانچ سال کے لیے ہوتا ہے، جس کے بعد این جی او کو اس کی تجدید کے لیے درخواست دینی ہوتی ہے۔ 2015 سے اب تک 18,000 سے زائد این جی اوز کے ایف سی آر اے رجسٹریشن ردکیے جا چکے ہیں۔ 15 اپریل تک ملک میں 14,538 ایف سی آر اے رجسٹرڈ این جی اوز فعال ہیں۔
پارلیامنٹ کے حالیہ بجٹ اجلاس کے دوران، جو 2 اپریل کو ختم ہوا، مرکزی حکومت نے 2010 کے قانون میں ترمیم کے لیے غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ترمیمی بل 2026 پیش کرنے کی تجویز رکھی تھی۔
تاہم، اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت کے بعد اس پر بحث اور اسے منظور کرنے کا عمل مؤخر کر دیا گیا۔
انتخابی ریاستوں جیسے تمل ناڈو اور کیرالہ کے وزرائے اعلیٰ اور عیسائی گروپوں نے اس بل کی مخالفت کی، کیونکہ اس سے وزارت کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ اگر کسی این جی او کا ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ یا معطل ہو جائے تو وہ اس کی جائیداد اور اثاثوں پر قبضہ کر سکے۔
غور طلب ہے کہ اس سلسلے میں دی وائر نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کیسے طریقہ کار کی خامیوں اور ٹیکس فائلنگ کی غلطیوں سے لے کر ’ترقی مخالف سرگرمیوں، جبری تبدیلی مذہب اور ملک مخالف احتجاج میں شمولیت‘جیسے الزامات کو ایف سی آر اے لائسنس ردکرنے یا تجدید مسترد کرنے کی وجوہات کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، اور کئی بار قواعد سخت کرنے کے باوجود مرکزی حکومت نے رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیامنٹ کے ساتھ ایسی کارروائیوں کی بنیادی معلومات بھی شیئر کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
Categories: خبریں





