
وزیر تعلیم نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت کوچنگ اداروں کی ذمہ داریاں اور حدود متعین کی جائیں گی۔ پالیسی نافذ ہونے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پالیسی تیار کرنے سے قبل تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے گی تاکہ ایسا نظام بنایا جا سکے جو عملی اور مؤثر ہو۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریاست میں اساتذہ کے تبادلوں کے حوالے سے بھی ایک نئی پالیسی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت عوام اور متعلقہ حلقوں کی رائے حاصل کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرے گی اور تمام تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے حتمی پالیسی مرتب کی جائے گی۔





