
لالو یادو کی رہائش گاہ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: بہار کی سابق وزیراعلیٰ رابڑی دیوی اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) سپریمو لالو پرساد یادو کی سکیورٹی میں کی گئی کٹوتی پر ریاست میں سیاسی تنازعہ جاری ہے۔
آر جے ڈی نے الزام لگایا ہے کہ ایک’ سازش‘کے تحت بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی این ڈی اےحکومت نے لالو پرساد یادو کے خاندان کی سکیورٹی کم کر دی ہے۔
نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق،سنیچر (6 جون) کو لالو یادو اور ان کی اہلیہ رابڑی دیوی، جو ریاست کی سابق وزیراعلیٰ بھی ہیں، نے اپنی ’زیڈ‘ کیٹیگری سکیورٹی ہٹائے جانے کے خلاف پٹنہ میں اپنے 10 سرکلر روڈ واقع رہائش گاہ پر تعینات سکیورٹی اہلکاروں کو واپس بھیج دیا۔
اس حوالے سے آر جے ڈی کے چیف ترجمان شکتی یادو نے کہا،’آر جے ڈی ان ووٹروں کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتی ہے جنہوں نے اس کی قیادت پر بھروسہ ظاہر کیا ہے۔ وہ اپوزیشن کو کچلنا چاہتے ہیں۔ جمہوریت میں اس طرح کی سیاست کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
انہوں نے الزام لگایا کہ اس قدم کے پیچھے ایک سازش ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جمعرات (4 جون) کو جاری ایک آرڈر میں کہا گیا تھا کہ بہار میں مختلف وی آئی پی افراد کی سکیورٹی کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب سابق وزیراعلیٰ لالو یادو اور رابڑی دیوی کو بہار اسپیشل آرمڈ پولیس (بی ایس اے پی) کی سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
اس پر ردعمل دیتے ہوئے لالو یادو اور رابڑی دیوی کی بیٹی روہنی آچاریہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ فیصلہ دونوں سابق وزرائے اعلیٰ اور ان کے خاندان کو’نقصان پہنچانے اور جسمانی چوٹ پہنچانے کے واحد مقصد‘سے کیا گیا ہے۔
روہنی نے کہا،’سکیورٹی میں کٹوتی کے بعد سکیورٹی کا دکھاوا برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے؛ اسی تناظر میں رابڑی دیوی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ سے سکیورٹی اہلکار واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
सुरक्षा कवर में कटौती के बाद दिखावे की सुरक्षा रखने का कोई औचित्य ही नहीं है ,.
सात खून के आरोपी रहे मुख्यमंत्री की सरकार के द्वारा लालू जी एवं राबड़ी देवी जी की सुरक्षा में कटौती का फैसला लालू जी – राबड़ी देवी जी एवं उनके परिवार को नुकसान , शारीरिक क्षति पहुँचाने की नीयत से ही…
— Rohini Acharya (@RohiniAcharya2) June 6, 2026
بتادیں کہ لالو یادو اور رابڑی دیوی کی سکیورٹی کم کیے جانے کے بعد ان کے بیٹے اور بہار میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو-جو اسی 10 سرکلر روڈ والے گھر میں رہتے ہیں-نے بھی احتجاج کے طورپر اپنے سکیورٹی اہلکار واپس بھیج دیے۔
بہار حکومت نے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی’وائی پلس‘سکیورٹی برقرار رکھی ہے۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، سرکاری سکیورٹی اہلکار واپس بھیجنے کے بعد آر جے ڈی کے رہنما اور کارکن لالو خاندان کے 10 سرکلر روڈ والے گھر کے گیٹ پر لاٹھیاں لیے سکیورٹی میں تعینات نظر آئے۔
آر جے ڈی کے چیف ترجمان شکتی یادو نے کہا،’حکومت کی جانب سے بار بار توہین کیے جانے پر آر جے ڈی سپریمو کا خاندان ناراض تھا، اسی لیے انہوں نے اپنی سرکاری سکیورٹی واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب ہماری پارٹی کے کارکن اور رہنما انہیں ضروری سکیورٹی فراہم کریں گے۔‘
وہیں،سکیورٹی کٹوتی کے فیصلے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔ آر جے ڈی اسے سیاسی انتقام کے طور پر دیکھ رہی ہے جبکہ این ڈی اے نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
بہار حکومت کے وزیر شرون کمار نے کہا کہ ریاستی حکومت وقتاً فوقتاً سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتی ہے اور اسی بنیاد پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔
شرون کمار نے کہا کہ سکیورٹی واپس کرنا رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو کا ذاتی فیصلہ ہے۔ جمہوریت میں کسی کو روکا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سکیورٹی کی ضرورت نہیں تو پھر پورے خاندان کو سکیورٹی حصار میں رکھنے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے۔






