
آخر میں انہوں نے ہندوستان کے تنوع پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ایسا مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع ہے جتنا دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہے۔ سوویت یونین اور یوگوسلاویہ جیسے ممالک کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے تنوع کے باوجود زندہ رہنے میں ناکام رہے۔ ہندوستان اس لیے قائم رہا کیونکہ ہمارا آئین نہ صرف تنوع کا احترام کرتا ہے بلکہ اس کا جشن بھی مناتا ہے۔ وریندر کمار کی زندگی بھی یہی پیغام دیتی ہے۔






