
ایسے دور میں جب معاشرہ تقسیم، غلط معلومات اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت کا شکار ہے، سر سید کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ تعلیم کو نجات کا ذریعہ سمجھنا، بین المذاہب ہم آہنگی کی وکالت کرنا اور مذہب کی عقلی تشریح پیش کرنا—یہ سب آج کے زمانے کے لیے ایک رہنمائی کا نقشہ فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا، ’’اسلام کا چہرہ دنیا کو نفرت کے ساتھ نہیں بلکہ محبت اور بھائی چارے کے ساتھ دکھاؤ۔‘‘ ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ اصلاح ٹکراؤ سے نہیں، خود احتسابی سے شروع ہوتی ہے۔
جس طرح ہندو سماج میں راجہ رام موہن رائے نے اصلاح اور نشاۃِ ثانیہ (تجدیدِ فکر) کی شمع جلائی، اسی طرح مسلمانوں میں سر سید احمد خان نے یہ فریضہ انجام دیا۔ دونوں نے جمود اور تنگ نظری کو للکارا، عقل و استدلال کو فروغ دیا، اور تعلیم کو اخلاقی احیاء کا مرکز قرار دیا۔ ان کے نزدیک ہندوستان کی ترقی کی بنیاد تقسیم نہیں بلکہ باہمی تعاون، روشن خیالی اور مشترکہ ترقی تھی۔






